ٹوئٹر کا سی ای او
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۴۸
خبر نامہ اسلامی مرکز 275
ہندوستان ہو یا عربستان سب کے لیے پر امن ترقی اور پر امن دعوت کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ مولانا کمی زندگی ہی سے مولانا کے مشورے اور پلاننگ پر عمل ہونے لگا ہے۔ خواہ نیشن بلڈنگ کمی ہر بات ہو یا ناسییر فرینڈلی ہہیویر کی بات ۔ مثال کے طور پر عربوں کے لیے اسرائیل ایک دوست ملک بن رہا ہے، اور ہندوستانی مسلمان آر ایس ایس، وغیرہ کے ساتھ رہنا بھی سیکھ گئے ہیں۔ نفرت کی جگہ سماجی رواداری کی بات آگے بڑھ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے الرسالہ مشن کی رہنمائی کو ہمارے لیے قابلِ فہم بنا دیا۔ حالانکہ لوگ حالات کے کمپلشن کے تحت اس حقیقت کو مانتے ہیں، مگر اللہ نے ہم کو قرآن وحدیث کی بنیاد پر مشن کو اپنانے کی توفیق عطا کی ہے۔ (سید اقبال احمد عمری، تامل ناڈو)
مولانا وحید الدین خاں میرے لیے روحانی باپ کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہر وہ بات جو والدین اپنی اولاد کو سکھاتے ہیں، میں نے مولانا کی تحریروں اور بیانات سے سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ خدا سے بندے کا تعلق اور بندے سے بندے کا تعلق میں نے مولانا کی اس کاوشوں میں محسوس کیا۔ پہلی کتاب "رازِ حیات" الہدی اسلامک انسٹیٹیوٹ میں پڑھی تھی۔ لیکن تب میں مولانا کو نہیں جانتی تھی۔ ایک دن یوٹیوب پر مولانا کو امن کے بارے گفتگو کرتے سنا۔ میں سمجھتی ہوں کہ وہ لمحہ میری اب تک کی زندگی کا بہترین لمحہ تھا۔ بس پھر کیا تھا۔ مولانا کو بلاناغہ ہر دن سننا اور ان کے پر حکمت تقریروں کا نوٹس تیار کرنا میرے روٹین میں شامل ہو گیا، اور رفتہ رفتہ ان کے لکچرس میری زندگی پر اثر انداز ہوتے گئے۔ مولانا کی ہر کتاب اپنی مثال آپ ہے۔ مولانا وحید الدین خان صاحب نے توحید کو جس طرح واضح انداز میں بیان کیا ہے، اس کو سن کر مجھے تھرل ہوتا ہے۔ ایک دن مولانا کے بارے میں میں اپنی بہن سے بات کر رہی تھی تو اس نے بڑی پیاری بات کہی کہ آپو" ایک صدی سے خدا کی کھوج میں ہیں مولانا ، اور میں نے بھی اپنی زندگی میں پہلے انسان کو پہلی بار اس شدت کے ساتھ، خدا سے صرف خدا کو مانگتے دیکھا، خدا ہم سب کو اس کھوج میں ان کا سچا ساتھی بنا دیں"۔ ہم سب اپنی زندگی میں کسی نہ کسی کی کا شکار ہوتے ہیں۔ مولانا کی تحریریں انسان کو اپنی ہر کی محرومی کو طاقت میں بدلنے کا ہنر سکھاتی ہیں۔ اس سلسلے میں مولانا صاحب کے مشن کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ (1) اپنے گھر خاندان میں سب کو مولانا کے بارے میں بتائیں۔ (2) تمام فیملی ممبر کو تذکیر القرآن اور دوسری کتابیں گفٹ کریں۔ (3) گھر میں لائبریری بنائیں ، اور مولانا کا تمام لٹریچر اس میں رکھیں۔ (4) اپنے علاقے میں لائبریری بنائیں، علاقے کے اسکول اور کالجز کی لائبریریوں میں مولانا کی کتابیں رکھوائیں۔ (5) اپنی صلاحیت کو اس مشن کے لیے بہترین انداز میں استعمال کریں ۔ (شما ئلہ عاشق، شیخوپورہ، پنجاب، پاکستان)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues