Al-Risala · March 2022 · page 49

ٹوئٹر کا سی ای او

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۴۹

مولانا وحید الدین خان صاحب کی کتابوں اور آرٹیکلز سے خدا ایک جامد عقیدے کے بجائے ایک زندہ ہستی کے طور پر سامنے آیا، اللہ کی معرفت، عظمت، ربوبیت اور قدرت کو سمجھنے اور خدا کی یاد میں جینے کا مطلب صحیح طرح سمجھ میں آیا، اور زندگی میں پیش آنے والے حالات و واقعات کو لے کر سوچنے اور ان سے عبرت و نصیحت لینے کا ذہن بنا۔ اپنا محاسبہ کرنا، اپنی غلطی کو ڈھونڈنا، اور لوگوں کے ساتھ اچھا رویہ رکھنا اور دعوت کا مزاج پیدا ہوا۔ خاص طور پر مولانا نے جس طرح خدا کے تخلیقی منصوبے، ناخوشگوار واقعات اور اختلافات کو پہنچ کرنے، اور آخرت اور جنت کے تصور کو واضح کیا ہے، اس سے بہت ہی انوکھا تجربہ ہوا، دنیا کو دیکھنے اور زندگی کو سمجھنے کا زاویہ ہی بدل گیا۔ سر میں CPS کے مشن میں شامل ہونا چاہتا ہوں، پلیز گائیڈ می (شاہد علی، عمر کوٹ، سندھ) میں نے اپنی ابتدائی تعلیم مردان سے حاصل کی۔ پھر جامعہ رضویہ ضیاء العلوم راولپنڈی سے حفظ کیا۔ کچھ عرصہ بھیرہ شریف میں تعلیم حاصل کی، اس کے بعد تنظیم المدارس سے درس نظامی مکمل کیا۔ سال 2016 میں اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد سے LLB کیا۔ ابھی میں ہائی کورٹ لیول کا وکیل ہوں۔ جاوید احمد غامدی صاحب، ابو یحییٰ اور حال ہی میں وحید الدین خان صاحب کے کام سے واقفیت ہوئی، جس نے میرا زاویہ نظر یکسر بدل دیا۔ اور روایتی مذہبی اور گروہی تعصبات سے اللہ کے فضل و کرم اور ان حضرات کی کاوشوں کی بدولت جاں خلاصی نصیب ہوئی ۔ خان صاحب کا لٹریچر روح کی غذا اور پاکیزگی کا بہترین انتظام کرتی ہے۔ تذکیر القرآن ایسا خوبصورت ترجمہ اور تفسیر ہے جو قرآن کی ہر آیت کو قاری سے متعلق کر دیتی ہے۔ حال ہی میں اخوان رسول کے نام سے خان صاحب کی ویڈیو دیکھی۔ دل میں شوق پیدا ہوا کہ کیوں نہ اس گروہ میں اور ان خدام دین متین کی صف میں خود کو شامل کر لیا جائے، چاہے ادنی درجے میں کیوں نہ ہو۔ دعا ہے اللہ پاک ہمیں اپنی اصلاح کی توفیق اور اس کے بعد اپنی خدمت کے لیے قبول فرمائے۔ اور جو مشن یہ ضعیف العمر شخص اس پیرانہ سالی میں چلا رہا ہے ہم اس کو بھر پور طریقے سے آگے بڑھا سکیں ۔ (شاہ خالد، مردان، پاکستان) حضرت مرحوم کے سلسلے میں جو الرسالہ خصوصی شماره (اگست ستمبر 2021) شائع ہوا ہے، اس وقت میں اس کا مطالعہ کر رہا ہوں ۔ میں حنفی المسلک ، دیوبندی ہوں۔ دارالعلوم دیوبند نے مولانا مرحوم کے سلسلے میں ان عقائد، افکار سے متعلق جو فتوٰی دیا تھا میں نے اس کو بھی پڑھا ہے، لیکن میں ان سے ہٹ کر بات کرنا چاہتا ہوں ۔ میں مولانا کو شروع شروع میں بالکل نہیں جانتا تھا۔ مگر میرے چچازاد بھائی مولانا مظہر جمیل رشیدی صاحب (مقیم حال علی گڑھ) مولانا کو بہت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ پڑھتے تھے، اور ان کے ذریعہ ہی میں نے بھی مولانا کی کچھ کتابیں پڑھیں ۔ مثلاً مطالعہ قرآن، ہندوستانی مسلمان، روشن مستقبل، یکساں سول کوڈ، وغیرہ۔ اس کے بعد میں نے خود مولانا کی کئی کتابیں خریدیں، اور باضابطہ طور پر مطالعہ کرنا شروع کیا۔ میں نے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues

Printed page