Turmoil یعنی پریشانی
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۴۱
آخر کار جب تذکیر القرآن کے 10 پارے ہو گئے تو مذکورہ بالانفسیات کی بنا پر مجھے محسوس ہوا کہ اب اس کی آخری حد آگئی۔ اب میں اس کے آگے کچھ نہ لکھ سکوں گا۔ میں نے چاہا کہ میری زندگی ہی میں اس کی پہلی جلد چھپ جائے۔ مگر اس وقت میرے پاس ضروری رقم موجود نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے عین اسی زمانے میں عزیزم شکیل احمد خاں کو دلی بھیجا۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ تذکیر القرآن کی پہلی جلد چھپنے کے لیے تیار ہے تو وہ اس کی رقم فراہم کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے۔ وہ فوراً کلکتہ گئے اور ہوائی جہاز سے واپس آ کر 25 ہزار روپے میرے حوالے کر دیا۔
اس کے بعد میری توقعات کے خلاف مزید 5 پارے ہو گئے تو دوبارہ پہلی جلد 15 پاروں کے ساتھ چھاپی گئی۔ اب خدا کے فضل سے 26 پارے ہو گئے ہیں اور کام تیزی سے جاری ہے۔ ان شاء اللہ، امید ہے کہ 1986 میں اس کی دوسری اور آخری جلد چھپ جائے گی۔ کیونکہ تحریر کے ساتھ اس کی کتابت کا کام بھی جاری ہے۔ ایک کاتب مستقل طور پر صرف تذکیر القرآن کی کتابت کر رہے ہیں۔ 15 فروری 1986 جناب عبدالرحمن انتولے(سابق (سابق چیف منسٹر مہاراشٹر) کا خط مورخہ 11 فروری 1986 کو موصول ہوا۔ یہ چھ صفحات کا خط ہے۔ ان کو حال میں اتفاق سے الرسالہ اردو کا شمارہ نمبر 110 (جنوری 1986) اور 111 (فروری 1986) ملا۔ وہ اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے۔ وہ لکھتے ہیں : ”پوری طرح ہر لفظ کو باقاعدہ غور سے پڑھا۔ لطف اندوز ہو کر ختم کیا۔ زبان سے بے ساختہ سبحان اللہ نکل پڑا ۔ اور دل نے اس زمانہ کا مجتہد پالیا۔ آپ کا قلم جہاد میں اور آپ کا دل و دماغ اجتہاد میں مشغول ہے۔ پھر میں نے سوچا کہ اس قدر بڑی نعمت کو پانے میں میری زندگی کے تقریباً گیارہ مہینے صرف ہو گئے۔ آپ کا انداز قرآنی ہے، پھر مخاطب کو سمجھنے میں پریشانی کیسے ہو ۔ حضرت مولانا ابوالکلام، حضرت مولانا مودودی اور حضرت مولانا وحیدالدین ۔ پہلے کا انداز عالمانہ، دوسرے کا فاضلانہ اور تیسرے کا عاقلانہ ۔ اور کبھی بھی عالم ہو یا فاضل، بغیر عاقل ہوئے علم و فضل بے معنی ہیں۔ “ اگلے دن انتولے صاحب کے داماد آئے ۔ ان کے ساتھ مہاراشٹر کے سابق ہوم سکریٹری بھی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues