Al-Risala · January 2023 · page 13

توہین کا مسئلہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۱۳

توہین کا مسئلہ

لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ توہینِ اسلام کا مسئلہ جانتے ہیں، مگر وہ توہینِ مسلم کا مسئلہ نہیں جانتے۔ اگر کوئی غیر مسلم اسلام کی توہین کر دے تو تمام لوگ بھڑک اٹھیں گے اور اس کے خلاف پر جوش مہم شروع کر دیں گے۔ لیکن ایک مسلمان ہر روز دوسرے مسلمان کی توہین کرتا ہے اور اس پر کوئی نہیں بھڑکتا، اس کو اس طرح نظر انداز کر دیا جاتا ہے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ حالاں کہ شریعت کے مطابق، مومن کا اکرام فرض ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2162) اور مومن کی توہین حرام (مسند احمد، حدیث نمبر 7727)۔

اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ کوئی شخص اسلام کی توہین کرے تو ایسا واقعہ نہایت آسانی کے ساتھ مسلمانوں کے لیے قومی غیرت اور قومی فخر کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ وہ اپنے فخر کو قائم کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مسلم کی توہین عملاً احتساب خویش کا مسئلہ ہے، اور احتساب خویش بلاشبہ ان لوگوں کے اوپر بہت سخت ہے جو اپنے دل میں اللہ کا خوف نہیں رکھتے۔ اسلام اللہ کا آخری دین ہے۔ اللہ نے اس کے لیے ابدی عظمت کا فیصلہ کر دیا ہے۔ کسی شخص یا گروہ کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اسلام کو زیر کر سکے۔ اسلام کا ابدی محافظ خود اللہ ہے، اور اللہ سے بڑا محافظ اور کون ہو سکتا ہے۔

مگر جہاں تک توہینِ مسلم کا معاملہ ہے اس کی ذمہ داری خود مسلمانوں کے اوپر ہے۔ مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ کسی مسلمان کی توہین نہ کریں۔ اور جب کوئی شخص ایک مسلمان کی توہین کرے تو اس کو ایسا کرنے سے روک دیں۔ جو مسلم معاشرہ اس روح احتساب سے خالی ہو جائے وہ اللہ کی رحمتوں سے بھی دور ہو جائے گا۔

اغیار کی طرف سے قومی فخر پر زد پڑے تو اس پر بھڑک اٹھنا اور جب کہ خود اپنی اصلاح یا احتساب کا مسئلہ ہو تو اس پر بے حس بنے رہنا ایمان کے مردہ ہونے کی علامت ہے، نہ کہ ایمان کی زندگی کی علامت۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues

Printed page