ٹریفک کا سبق
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۱۴
ٹریفک کا سبق
صحابی رسول ابوذر غفاری (وفات 31 ھ) کہتے ہیں: وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا أَذْكَرَنَا مِنْهُ عِلْمًا (مسند احمد، حدیث نمبر 21361)۔ یعنی ایک چڑیا بھی فضا میں اپنے پروں کو پھڑپھڑاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں، آپ ہمیں ہر چیز سے سبق سکھایا کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات میں انسان کے لیے لرننگ کے بے شمار آئٹم ہیں، جن کے ذریعے انسان اپنے خالق کو پہچان سکتا ہے، اور اپنا انٹلیکچول ڈیویلپمنٹ کر سکتا ہے۔ مثلاً مولانا فرہاد احمد (پیدائش 1984) آج کل بائیک سے آفس آتے جاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ٹریفک رول سے ہم زندگی کے لیے بہت سے سبق اخذ کر سکتے ہیں۔ مثلاً جب آپ بائیک چلا رہے ہوتے ہیں تو راستے میں اسپیڈ بریکر آتے ہیں، ریڈ سگنل ملتے ہیں، وغیرہ۔ یہ سب چیزیں آپ کو یاد دلاتی ہیں کہ یہ سڑک آپ کی نہیں ہے۔ یہاں آپ کو گورنمنٹ رول کو فالو کرنا ہے، رول کی خلاف ورزی کرنے پر آپ کو فائن لگ سکتا ہے۔ آپ کا یا کسی دوسرے کا ایکسیڈنٹ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے راستے میں جگہ جگہ بورڈ لگا رہتا ہے: ساودھانی ہٹی در گھٹنا گھٹی۔ یہی معاملہ زندگی کا بھی ہے، یہاں ہر دم کوئی نہ کوئی اسپیڈ بریکر اور ریڈ لائٹ آتی ہے۔ یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ اس دنیا کا ایک خالق ہے۔ یہاں اپنی خواہش پر چلنے کے بجائے آپ کو خالق کا رول فالو کرنا ہے۔ اور ہر وقت ساودھان یعنی الرٹ رہ کر زندگی گزارنا ہے۔ ورنہ زندگی کے سفر میں طرح طرح کے ڈسٹریکشن آئیں گے، جو آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دیں گے۔
راستے پر گاڑی چلانے والے ایک ڈرائیور کا دھیان ہر وقت اسٹریٹ لائٹ پر رہتا ہے۔ تا کہ جب ریڈ سگنل ہو تو وہ رک جائے اورگرین سگنل ہو تو وہ اپنی گاڑی آگے بڑھائے۔ ہم کو اسی طرح زندگی کی گاڑی چلانی ہے۔ غفلت کی زندگی گزارنے سے ہر ممکن طور پر اپنے آپ کو بچانا ہے، اور مواقع کو اویل کرنے کے لیے صبر کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے، جب کہ آپ غفلت اور ڈسٹریکشن سے بچ کر زندگی گزاریں۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues