Al-Risala · January 2023 · page 16

تزکیہ نفس

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۱۶

تزکیہ نفس

2001 میں الرسالہ مشن ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ ہوا یہ کہ میں نے جنوری 2001 میں اپنے کچھ ساتھیوں کو لے کر سنٹر فار پیس اینڈ اسپرپچولٹی انٹرنیشنل (CPS International) قائم کیا۔ اس ادارے کا خاص مقصد خدائی تعلیمات کے مطابق ، امن اور اسپرپچولٹی کو فروغ دینا ہے۔ اس مقصد کے لیے تعلیم یافتہ افراد کو تیار کیا جا رہا ہے تا کہ یہ تربیت یافتہ افراد سوسائٹی کے مختلف طبقات تک پہنچیں اور اس طرح کسی بڑے فکری انقلاب کا باعث بنیں۔ اس کے لیے CPS کے تحت دہلی میں اسپرپچول کلاس قائم کیا گیا جو خدا کے فضل سے غیر متوقع حد تک کامیاب رہا۔ اسپرپچول کلاس کے دوران جو تجربات پیش آئے اس سے سمجھ میں آیا کہ تزکیہ کیا ہے۔

جب لوگ اس ویکلی کلاس میں آئے تو مجھ سے گفتگو کے دوران یہ معلوم ہوا کہ ہر آدمی ایک کنڈیشنڈ مائنڈ (conditioned mind) ہے اور وہ اسی میں جی رہا ہے۔ ہر آدمی اپنے گھر ، اپنے ماحول اور لوگوں سے میل جول کے دوران جو کچھ دیکھتا اور سنتا ہے اس سے مسلسل طور پر اس کا ذہن متاثر ہوتا رہتا ہے۔ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی فطری حالت پر ہوتا ہے۔ لیکن دھیرے دھیرے وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو مکمل طور پر ایک کنڈیشنڈ انسان ہو۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ اس پر فکری ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کا عمل کیا جائے۔ تا کہ انسان دوبارہ اپنی فطری حالت کی طرف لوٹ سکے۔

تزکیہ دراصل اسی ذہنی ڈی کنڈیشننگ کا نام ہے۔ تزکیہ کے لفظی معنی ہیں : پاک کرنا (to purify)۔ روایتی طور پر اس کو تزکیہ قلب کے معنی میں لیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد تزکیہ ذہن ہے۔ آدمی کا ذہن ہی اس کے تمام افعال کا مرکز ہے۔ ذہنی سطح پر بگڑی ہوئی سوچ کو دوبارہ صحیح سوچ بنانا ، اسی کا نام تزکیہ ہے اور اسی کے ذریعے فکری اور عملی اعتبار سے وہ شخصیت بنتی ہے جس کو روحانی شخصیت یا ربانی شخصیت کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues

Printed page