Al-Risala · January 2023 · page 17

تزکیہ نفس

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۱۷

میرا تجربہ ہے کہ لوگ عام طور پر کنفیوژن (confusion) میں جیتے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب ہماری اسپرچول کلاس میں آئے۔ وہ ایک انٹرنیشنل امریکن کمپنی میں مینجر ہیں۔ یہاں، امریکی اصول کے مطابق، ہایراینڈفائر(hire (hire and fire) کا اصول رائج ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں مسلسل تناؤ میں رہتا ہوں ۔ ہر وقت جاب کھونے کا اندیشہ (fear of losing job) میرے دماغ پر چھایا رہتا ہے۔ میں نے نصیحت کے طور پر ان کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے:

One can take away your job. But no one has the power to take away your destiny. تزکیہ کو عام طور پر تزکیہ قلب کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے اور روایتی تصور کے مطابق، تزکیہ قلب کا ذریعہ صوفیانہ اور ادووظائف ہیں۔ جب کوئی شخص ان اور ادووظائف میں زیادہ مشغول ہوتا ہے تو اس کے دل میں ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے، اسی کیفیت کو عام طور پر تزکیہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر میرے نزدیک یہ ایک بے اصل بات ہے۔ یہ قلبی کیفیت جو پیدا ہوتی ہے وہ دراصل وجد (ecstacy) ہے ۔ اور وجد کا کوئی بھی تعلق تزکیۂ روحانی سے نہیں۔

اصل یہ ہے کہ اس معاملے میں انسانی فکر کے دو دور ہیں: قبل سائنس دور، اور بعد سائنس دور۔ قبل سائنس دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ قلب جذباتِ انسانی کا مرکز ہے۔ اس لیے صوفیا نے تزکیۂ روحانی کے لیے قلب کو مرکز بنایا۔ اور سالکین طریقت کے لیے مبنی بر قلب وظائف تجویز کیے۔ ان وظائف میں اشتغال سے چوں کہ سالکین کو وجد کی سی ایک کیفیت محسوس ہوتی تھی۔ ان لوگوں نے اسی وجد کو غلط طور پر معرفت سمجھ لیا، حالاں کہ معرفت ایک شعوری حالت ہے، جب کہ وجد صرف ایک مجہول احساس کا نام ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر سمجھ لیا گیا کہ یہ طریقہ حصول تزکیہ کے لیے مفید ہے۔ مگر وجد کی کیفیت سرتا سر ایک غیر متعلق کیفیت ہے جو ہندو طریقے پر میڈیٹیشن (meditation) کے ذریعے بھی حاصل ہوتی ہے۔

بعد سائنس دور میں یہ نظریہ متروک ہو چکا ہے۔ اب انسان کے علم میں یہ بات آچکی ہے کہ فکر وجذبات اور احساس کا مرکز تمام تر ذہن (mind) ہے۔ اس لیے تزکیہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ذہن کی تظہیری اصلاح کی جائے۔ یہی تزکیہ کا اصل طریقہ ہے۔ حضرت ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ کوئی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues

Printed page