Al-Risala · January 2023 · page 18

تزکیہ نفس

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۱۸

چڑیا بھی اگر فضا میں اپنے پروں کو پھڑ پھڑاتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے ( وَمَا يَقْلِبُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ، إِلَّا ذَكَرَنَا مِنْهُ عِلْمًا ) الزہد لوکیع بن الجراح، حدیث نمبر 522۔ علم یعنی معرفت و حکمت کا کوئی سبق سکھاتے تھے۔

اسپرچول کلاس میں اسی طریق تزکیہ کو اختیار کیا گیا ہے۔ ایک صوفی سے پوچھا گیا کہ تصوف کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تصوف کا مطلب تصور ہے۔ میرے نزدیک ، قرآن کے الفاظ میں، اس کا جواب یہ ہے کہ تصوف کا مطلب تو سم (الحجر ، 15:75) ہے۔ تو سم کا مطلب ہے ــ مادی تجربات کو معرفت میں ڈھال لینا:

converting material events into spiritual experience روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ معرفت کا ذریعہ صحبت ہے۔ یعنی کسی بزرگ کے پاس بیٹھنے سے پر اسرار طور پر آدمی کے اندر ربانی معرفت پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا کہ حصول معرفت کا ذریعہ صرف کسی بزرگ کی صحبت ہے، نہ کہ تدبر و تفکر اور ذاتی محنت۔ یہ نظریہ مزاج اسلام کے خلاف ہے۔ اسلام کے مطابق ، ہر آدمی اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ اس دنیا کے لیے خدائی قانون یہ ہے : لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (53:39) ــ یعنی ، انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمایا۔ ایسی حالت میں یہ ماننا کہ ذاتی عمل کے بغیر صرف کسی کی صحبت سے روحانیت یا ربانیت حاصل ہو سکتی ہے ، ایک متضاد نظریہ ہے۔ کیوں کہ یہ نظریہ اس حکمت کی نفی کر رہا ہے جس کو امتحان کہا جاتا ہے۔ قرآن ( 3:79) میں ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو، ربانی بنو (كُونُوا رَبَّانِيِّينَ ) ۔ ربّی کے لفظی معنی ہیں : رب والا۔ ربانی اسی کا مبالغہ ہے۔ یعنی بہت زیادہ رب والا۔ ربّی یا ربانی کو دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سے مراد ہے: خدا رخی سوچ (God-oriented thinking) یا خدا رخی زندگی (God-oriented life) ۔ یعنی انسان کی وہ حالت جب کہ اس کی سوچ کا مرکز خدا بن جائے ، جب کہ اس کے جذبات و احساسات پر تمام تر خدا کا غلبہ ہو جائے ، جب کہ خدا کی یاد اس کی ہستی میں پوری طرح سما جائے۔

یہی وہ چیز ہے جس کو روحانیت (spirituality) کہا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues

Printed page