Al-Risala · January 2023 · page 19

تزکیہ نفس

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۱۹

اکثر شعبوں کی طرح، روحانیت کے دو دور ہیں۔ قبل سائنس دور (pre-scientific era) اور بعد سائنس دور (post-scientific era)۔ قبل سائنس دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جذبات و احساسات کا مرکز قلب (heart) ہے۔ چنانچہ اس زمانے میں روحانیت کے حصول کا ذریعہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ قلب پر فوکس ڈال کر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ سادھوں کا میڈیٹیشن (meditation) اور صوفیوں کا مراقبہ اسی طرز فکر کا نتیجہ ہے۔

مگر بعد سائنس دور میں یہ نظریہ بے بنیاد ثابت ہو گیا۔ اب متفقہ طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ قلب صرف گردش خون (circulation of blood) کا ذریعہ ہے۔ سوچ اور احساسات کا مرکز تمام تر انسان کا دماغ ہے۔ سرجری کی ترقی کے بعد یہ کیا گیا کہ آپریشن کر کے انسان کے قلب کو اس کے سینے سے نکال لیا گیا اور اس کی جگہ مکمل مصنوعی قلب (total artificial heart) لگا دیا گیا جو اب اصل قلب کی جگہ پورے جسم کو خون پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ مثلاً بی سی اردو کی ویب سائٹ پر 2 فروری 2018 کو ایک رپورٹ شائع ہوئی، جس میں برٹش خاتون مسلوا حسین (Selwa Hussain) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ جب مسلوا حسین کا فطری قلب ایک نامعلوم بیماری کی وجہ سے قابل استعمال نہیں رہا تو ان کو 2017 میں مکمل مصنوعی قلب لگایا گیا ہے۔ یعنی مشینی قلب، جو ایک بیک پیک (backpack) کے ذریعہ ہر وقت ان کے ساتھ رہتا ہے۔ مشینی قلب کے ساتھ وہ شعوری اعتبار سے ایک نارمل زندگی گزار رہی ہیں (Link: shorturl.at/lqJ89)۔ اسی طرح میڈیکل ایکسپریس ڈاٹ کام پر شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، امریکا میں ایک خاتون کا فطری قلب جب ناکارہ ہو گیا تو اس کی جگہ ایک مکمل مصنوعی قلب لگایا گیا ہے (Link: shorturl.at/bju35)۔ ان دونوں میڈیکل خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپریشن کے بعد انسان کا سینہ فطری قلب سے بالکل خالی ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود اس کی سوچ اور اس کے احساسات ٹھیک ویسے ہی باقی رہے جیسا کہ وہ اس وقت تھے جب کہ فطری قلب اس کے سینے میں موجود تھا۔ اس طرح کے آپریشن کے بعد یہ ثابت ہوا کہ فکر اور احساس کا مرکز مکمل طور پر دماغ ہے، نہ کہ قلب۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں بھی قلب کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے گویا کہ دماغ کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues

Printed page