تزکیہ نفس
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۲۰
علاوہ قلب بھی سوچ اور جذبات کا مرکز ہے۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ قرآن میں ایسے مواقع پر قلب کا ذکر اس کے ادبی استعمال کے اعتبار سے ہے، نہ کہ اس کے سائنسی مفہوم کے اعتبار سے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ قرآن میں سوچ کے عمل کے لیے صرف قلب کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے بلکہ عقل اور لب کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ دونوں الفاظ قرآن میں تقریباً 65 بار استعمال ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں جو بالواسطہ طور پر دماغی عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً توسم اور تفکر، وغیرہ۔ اس کے علاوہ قرآن میں جس مفہوم کے لیے قلب کا لفظ آیا ہے ٹھیک اسی مفہوم کے لیے متعدد آیتوں میں سمع اور بصر کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ مثلاً: لَّهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا (7:179)۔ یعنی، ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ اگر اس طرح کی آیتوں کی بنیاد پر یہ مانا جائے کہ سوچ کے عمل کا تعلق قلب سے ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آنکھ اور کان کا تعلق بھی سوچ سے ہے۔ کیوں کہ ان آیتوں میں دیکھنے اور سننے کے جس عمل کا ذکر ہے اس سے مراد سادہ طور پر کیمرہ یا ٹیپ ریکارڈ کی طرح دیکھنا اور سننا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ دیکھنا اور سننا ہے جس میں سوچ بھی شامل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں جہاں عقل اور لب کا حوالہ ہے وہاں اس سے براہ راست دماغی عمل مراد ہے اور جہاں آنکھ، کان اور دل کے الفاظ آئے ہیں وہاں یہ الفاظ اپنے معروف ادبی مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ اس طرح بعد سائنس دور میں تصوف یاروحانیت کا علم پوری طرح بدل گیا ہے۔ اب روحانیت کا تعلق قلبی وظائف سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ذہنی ارتقا کے ایک خاص مرحلے سے ہے۔
اسپرچول کلاس میں میں نے اسی اصول پر لوگوں کا تزکیہ کیا اور ان کے اندر روحانیت لانے کی کوشش کی۔ خدا کے فضل سے نتیجہ صد فی صد کامیاب رہا۔ ہمارے کلاس میں ایسے کئی افراد شریک ہوئے جنہوں نے بتایا کہ وہ برسہا برس تک ہندو گروؤں اور مسلم صوفیوں کے یہاں روحانیت کے حصول کی کوشش کرتے رہے مگر انہیں روحانیت نہیں ملی۔ جب کہ ہمارے کلاس میں ان کو اپنی مطلوب روحانیت حاصل ہوگئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues