تزکیہ نفس
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۲۲
جواب : عام طور پر میں عربی ، انگریزی اور اردو کتابیں پڑھتا ہوں۔ کبھی کبھی فارسی اور ہندی کتاب یا مضمون بھی پڑھتا ہوں ۔
سوال : آپ کے مطالعہ کا وقت کیا ہوتا ہے ؟
جواب : میرے مطالعہ کا مقرر وقت نہیں ۔ اپنے تمام وقت کو میں مطالعہ ہی میں صرف کرتا ہوں۔ مطالعہ میری ذہنی خوراک ہے ۔
سوال : مطالعہ کے ابتدائی دور میں آپ کو کس قسم کی ذہنی وفکری کیفیت سے سابقہ پیش آیا ہے ؟ جواب : مطالعہ ابتداء میرے لیے ذہنی تفریح کے ہم معنی تھا۔ اس کے بعد وہ تلاش حق کا ہم معنی بنا۔ اب مطالعہ میرے لیے خدمت اسلام کا وسیلہ ہے۔
سوال : آپ کے اپنے موضوع یا موضوعات کی اول درجے کی کتابیں آپ کی نظر میں کون سی ہیں ؟ جواب : کسی موضوع کے تاریخی ماخذ کے طور پر تو مجھے بہت سی کتابیں اول درجہ کی نظر آئیں۔ مثلاً تفسیر میں محمد بن احمد بن ابوبکر القرطبی ( وفات (1273ء) کی الجامع لاحکام القرآن ، علم حدیث میں ابن حجر عسقلانی ( وفات (1449ء) کی فتح الباری، سیرت میں سیرۃ ابن کثیر ، وغیرہ ۔ اسی طرح جدید ذہن کو سمجھنے کے لیے برٹش فلاسفر برٹرینڈرسل 1872-1970) ,Bertrand Russell) کی کتاب ہیومن نالج (Human Knowledge)۔ مگر اسلام کو سائنٹفک اسلوب اور جدید فکری مستوی پر پیش کرنے کے لیے کوئی بھی کتاب مجھے اول درجہ کی نظر نہیں آئی۔ سوال : کیا کسی موضوع پر تقابلی مطالعہ کا بھی آپ کو موقع مل سکا ہے ؟ جواب : تقابلی مطالعہ کے سلسلہ میں خاص طور پر میں نے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کیا ہے۔ سوال : تقابلی مطالعہ میں کن باتوں کو پیش نظر رکھنا آپ ضروری سمجھتے ہیں ؟ جواب : تقابلی مطالعہ کو کامیاب بنانے کی دو لازمی شرطیں ہیں ۔ گہرامطالعہ، اور موضوعیت۔ سوال : ریسرچ اور تحقیق کے لیے مطالعہ میں کن باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری خیال کرتے ہیں ؟ جواب : علمی ریسرچ کے لیے ضروری ہے کہ جس موضوع کا مطالعہ پیش نظر ہے، اس کی براہِ راست کتابوں کو پڑھا جائے اور جو کچھ پڑھا جائے غیر جانبدارانہ ذہن کے تحت پڑھا جائے۔ سوال : تصنیف و تالیف کا کام کرنے والوں کو مطالعہ میں کن باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ؟
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues