تزکیہ نفس
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۲۳
جواب: کسی مصنف کی تصنیف کو اس کے مطالعہ کا نتیجہ ہونا چاہیے، نہ کہ تصنیف ہی مطالعہ کا محرک ہو۔ سوال: آپ کے مطالعہ کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟
جواب: مجھے علم سے دلچسپی ہے۔ میں ہر اس کتاب کو پڑھتا ہوں جو علمی اسلوب میں لکھی گئی ہو۔ سوال: حاصل مطالعہ کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ کیا تدابیر اختیار کرتے ہیں؟ جواب: حاصل مطالعہ کو محفوظ رکھنے کے لیے میں قیدو العِلْمِ بالکتابۃ (علم کو لکھ کر محفوظ کرو) پر عمل کرتا ہوں۔ حافظہ خواہ کتنا ہی اچھا ہو وہ ہرگز کتاب کا بدل نہیں ہے۔ سوال: کیا آپ دوران مطالعہ کتاب کے اہم جملوں یا پیرا گراف کو نشان زد بھی کرتے ہیں؟ جواب: اگر ذاتی کتاب ہو تو مطالعہ کے دوران میں ضروری نشانات کرتا رہتا ہوں۔ مگر لائبریری کی کتابوں پر نشانات لگانا مجھے پسند نہیں۔ سوال: سفر میں آپ کس طرح کی کتابیں پڑھتے ہیں؟
جواب: سفر میں زیادہ تر میں اخبار یا رسالہ جیسی ہلکی پھلکی چیزیں پڑھتا ہوں۔ سوال: کیا آپ مطالعہ برائے تفریح یا مطالعہ برائے وقت گزاری کو بھی روا رکھتے ہیں اور اگر روا رکھتے ہیں تو کس حد تک؟ جواب: تفریح یا وقت گزاری کے لیے مطالعہ اس شخص کو روا ہے جو سنجیدہ مطالعہ نہ کر سکتا ہو۔ سوال: آپ کے پسندیدہ موضوعات کیا ہیں؟ ترجیحی ترتیب کے ساتھ۔
جواب: میرے پسندیدہ موضوعات یہ ہیں: تمام اسلامی موضوعات، اور تمام مخالفِ اسلام موضوعات۔ سوال: ادب میں آپ کس نظریے کے حامی ہیں؟
جواب: ادبی مطالعہ سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کو میں صرف ضیاع وقت سمجھتا ہوں۔ سوال: ایک ادیب یا شاعر کی زندگی میں آپ مطالعہ کو کیا اہمیت دیتے ہیں؟ جواب: ادیب یا شاعر کو صرف یہ مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ ادب یا شاعری کو چھوڑ دے۔ سوال: وہ کون سی کتابیں ہیں، جنہیں آپ اپنی پسندیدہ کتابوں میں شمار کرتے ہیں اور اس کی پسندیدگی کے اسباب کیا ہیں؟ جواب: تاریخی ماخذ کے طور پر مجھے بہت سی کتابیں پسند ہیں۔ مگر جدید علمی اسلوب میں اسلام کی ترجمانی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues