دعوت کے حدود
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۱۹
(25:68) نازل فرمائی: اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ہیں۔ اور وہ اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو قتل نہیں کرتے مگر حق پر۔ اور وہ بدکاری نہیں کرتے۔ اور جو شخص ایسے کام کرے گا تو وہ سزا سے دوچار ہوگا (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 6861؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 86)۔ خدا کے معاملہ میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ کسی کو عظمت کا وہ درجہ دے جو صرف ایک خدا کا حق ہے۔ انسان کے معاملے میں سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ کسی خود ساختہ سبب کی بنا پر اس کو قتل کر دیا جائے۔ عورت کے معاملے میں سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ ایک آدمی اس کے ساتھ زنا کا فعل کرے۔ حالاں کہ عورت کے ساتھ آخری حد تک احترام کا معاملہ کرنا فرض ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی، انسان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6675)۔
گناہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک غلطی، اور دوسرے سرکشی۔ غلطی وہ ہے جو نفس سے مغلوب ہو کر سرزد ہو اور سرکشی وہ ہے جو انانیت اور تکبر کے جذبے کے تحت کی جائے۔ غلطی قابل معافی ہو سکتی ہے لیکن سرکشی اللہ کے نزدیک قابل معافی نہیں۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ فرق ہے کہ اس میں جھوٹی قسم (اَلْيَمِينُ الْغَمُوْسُ) کی جگہ پر جھوٹی گواہی (شَهَادَةُ الزُّورِ) کے الفاظ آئے ہیں (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 2654؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 88)۔
جھوٹی قسم اور جھوٹی گواہی دونوں اسپرٹ کے اعتبار سے ایک ہیں۔ یعنی خلاف واقعہ بات کو سچ ثابت کرنا۔ جھوٹی گواہی دینا بلا شبہ ایک عظیم گناہ ہے۔ جھوٹی گواہی دینے والا ایک آدمی کو جانتے بوجھتے اس کے جائز حق سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس قسم کا فعل بلا شبہ ایک ناقابل معافی جرم ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues