دعوت کے حدود
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۵۱
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ سات مہلک چیزوں سے بچو۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول وہ کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور جادو اور ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جس کو اللہ نے حرام کیا ہے۔ اور سود کھانا۔ اور یتیم کا مال کھانا۔ اور میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا۔ اور پاک دامن، سیدھی سادی مومن عورتوں پر جھوٹا الزام لگانا (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 2766 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 89)۔ گناہ کے مختلف درجے ہیں۔ سب سے زیادہ بڑا گناہ وہ ہے جو پستی اور کمینگی کی سطح پر کیا جائے۔ مذکورہ ساتوں گناہ کی نوعیت یہی ہے۔ ان کاموں کو کرنے والا اپنے آپ کو پست انسانیت کی سطح پر گرالیتا ہے۔ اس لیے ان کو مہلکات (برباد کرنے والے اعمال) کہا گیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی زانی زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور جب کوئی چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور جب کوئی شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور کوئی مال چھیننے والا اس وقت مومن نہیں ہوتا جب کہ وہ مال چھین رہا ہو اور لوگ اس کو بے بسی کی نظروں سے دیکھ رہے ہوں۔ اور جب کوئی خیانت کرنے والا خیانت کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ پس تم ان سے بچو، تم ان سے بچو (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 2475 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 57)۔ ایک انگارہ کو دیکھ کر یہ کہنا کہ یہ آگ ہے، اپنے آپ یہ مفہوم رکھتا ہے کہ آدمی اس کو نہیں چھوئے گا۔ اسی طرح جب ایک آدمی ایمان لاکر خدا کی خدائی کا اقرار کرے تو اس کا لازمی مفہوم یہ ہے کہ اقرار کرنے والا ان تمام چیزوں کو چھوڑ دے گا جو خدا کی مرضی کے سراسر خلاف ہیں۔ ایسی حالت میں جب ایک آدمی اس قسم کا کوئی کھلا ہوا خلاف ایمان فعل کرے تو اس نے عملاً اپنے آپ کو ایمان سے دور کر لیا۔ وہ دوبارہ صاحب ایمان اس وقت بن سکتا ہے جب کہ وہ اپنی غلطی کا سچا اعتراف کرکے لوٹے اور از سر نو ایمان پر قائم ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues