Al-Risala · July 2023 · page 52

دعوت کے حدود

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۵۲

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس طرح ہے: جب کوئی قتل کرنے والا قتل کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس سے کہا کہ مومن سے ایمان کیسے نکل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح۔ اور پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا اور پھر ان کو نکال لیا۔ پھر کہا کہ اگر اس نے توبہ کر لی تو ایمان اس طرح واپس آ جاتا ہے۔ پھر یہ کہتے ہوئے انھوں نے اپنی انگلیوں کو دوبارہ اس میں داخل کر لیا۔ ابو عبد اللہ البخاری کہتے ہیں کہ ایسا آدمی اس وقت مکمل مومن نہیں ہوتا۔ اور نہ اس کو ایمان کی روشنی حاصل رہتی ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6809)۔

ایمان آدمی کے جسم کا مادی جزء نہیں ہے، جس طرح ہاتھ اور پاؤں انسانی جسم کے مادی اجزاء ہیں۔ ایمان دراصل علم و معرفت کی مانند ایک نفسیاتی حقیقت ہے۔ آدمی خود اپنے ارادے سے ایمان کو اپنے اندر داخل کرتا ہے۔ اور اپنے ارادے کے تحت اپنے آپ کو اس سے جزئی یا کلی طور پر دور کر سکتا ہے۔

ایمان سے جدائی کی انتہائی صورت وہ ہے جس کو ارتداد (apostasy) کہا جاتا ہے۔ لیکن جو شخص وقتی محرک کے تحت خلافِ ایمان فعل کرے اور پھر سچے دل کے ساتھ توبہ کرلے، وہ گویا وقتی طور پر اپنے ایمان سے جدا ہوا تھا اور پھر دوبارہ اس کی طرف لوٹ آیا۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی نشانیاں تین ہیں ــــ اس پر مسلم کی روایت میں اضافہ ہے : اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور گمان کرے کہ وہ مومن ہے ــــ اس کے بعد دونوں روایت کے الفاظ یہ ہیں : یہ کہ وہ بات کرے تو وہ جھوٹ بولے۔ اور جب وہ وعدہ کرے تو وہ اس کی خلاف ورزی کرے۔ اور جب اس کو امانت سونپی جائے تو وہ خیانت کرے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 33؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 59)۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page