دعوت کے حدود
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۲۲
جو آدمی زبان سے ایمان کا اقرار کرے مگر ایمان اس کے دل ودماغ کی گہرائیوں میں اترا ہوا نہ ہو تو یہی وہ انسان ہے جو منافقت کی روش اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے معاملات کو اصول کی بنیاد پر قائم کرنے کے بجائے دنیوی مصلحتوں کی بنیاد پر چلانے لگتا ہے۔
عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار چیزیں جن کے اندر ہوں، وہ خالص منافق ہے۔ اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس کے اندر نفاق کی ایک صفت ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے: جب اس کو امانت دی جائے تو اس میں وہ خیانت کرے۔ اور جب وہ بات کرے تو وہ جھوٹ بولے اور جب وہ وعدہ کرے تو اس کی وہ خلاف ورزی کرے اور جب وہ جھگڑا کرے تو وہ گالی دینے لگے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 34؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 59)۔
منافق آدمی اگرچہ بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ ایمان کو اپنی زندگی میں ایک اصول کی حیثیت سے اختیار نہیں کرتا۔ اس کی اس بے اصولی اور بے حسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب اس کو کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو وہ فوراً ایسی روش میں مبتلا ہو جاتا ہے جو ایمان سے مطابقت نہیں رکھتی۔ حساسیت برائی کے خلاف روک ہے۔ جو آدمی ایمان کی حساسیت سے خالی ہو وہ اپنے دنیوی مفاد کی خاطر کھلے طور پر بے اصولی کا طریقہ اپنائے گا، مگر اس کو اپنی غلطی کا احساس تک نہ ہوگا۔ عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی مثال اس بکری جیسی ہے جو دو گلوں (herds) کے درمیان حیران پھر رہی ہو، کبھی اس طرف جاتی ہواور کبھی اُس طرف (صحیح مسلم، حدیث نمبر 17)۔
منافق انسان اپنے مزاج کی بنا پر کسی مستقل اصول کا پابند نہیں ہوتا۔ وہ صرف وقتی مفاد کا پابند ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی وفاداری ہمیشہ بدلتی رہتی ہے۔ مادی مفاد کی بنیاد پر وہ کبھی ایک طرف ہو جاتا ہے اور کبھی دوسری طرف۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues