دعوت کے حدود
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۵۷
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ ہم اس نبی کے پاس چلیں ۔ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: تم ان کو نبی مت کہو۔ اس لیے کہ اگر انھوں نے تم سے یہ سن لیا تو ان کی آنکھیں چار ہو جائیں گی۔ پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ پھر ان دونوں نے نو واضح نشانیوں کے بارے میں آپ سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ اور تم چوری نہ کرو اور تم زنا نہ کرو۔ اور تم ناحق کسی جان کو قتل نہ کرو جس کو خدا نے حرام ٹھہرایا ہے، اور تم کسی بے گناہ کو حاکم کے پاس نہ لے جاؤ تا کہ وہ اس کو قتل کر دے، اور تم جادو نہ کرو۔ اور تم سود نہ کھاؤ۔ اور تم پاک دامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ۔ اور تم میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو۔ اور تم یہود پر یہ خاص حکم ہے کہ تم لوگ سبت کے قانون کی خلاف ورزی نہ کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ان دونوں نے آپ کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں چوم لیے۔ اور کہا کہ ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر تم کو میری اتباع سے کیا چیز روک رہی ہے۔ ان دونوں نے کہا کہ داؤد علیہ السلام نے اپنے رب سے کہا کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ نبی آتے رہیں ۔ اور ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کی اتباع کی تو یہود ہم کو قتل کر دیں گے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2733 ؛ سنن النسائی ، حدیث نمبر 4078 )۔
یہودی عالم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے توریت کے مخصوص احکام کی بابت دریافت کیا۔ دورِ پریس سے پہلے تورات کا علم صرف کچھ علما کو ہوتا تھا۔ عام لوگ اس سے بے خبر رہتے تھے۔ یہودی عالم کو معلوم تھا کہ رسول یا اصحابِ رسول کو تورات کا علم نہیں۔ مگر جب آپ نے یہودی عالم کے سوال کا ٹھیک ٹھیک جواب دے دیا تو اس کو یقین ہو گیا کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ اس کھلی دلیل کے باوجود وہ دونوں یہودی ایمان نہیں لائے۔ اس کا سبب اپنی قوم کا ڈر تھا۔ تاریخ کے ہر دور میں یہی ہوا ہے کہ حق کی وضاحت کے باوجود مادی مصالح کی بنا پر لوگ حق کو قبول کرنے سے باز رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues