دعوت کے حدود
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۵۸
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ایمان کی اصل ہیں ــــ ان شخص سے رُک جانا جو یہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تم کسی گناہ کی بنا پر اس کو کافر نہ کہو اور نہ تم کسی عمل کی بنیاد پر اس کو اسلام سے خارج کرو۔ اور جہاد جاری رہے گا، میری بعثت سے لے کر اس وقت تک جب کہ اس امت کا آخری حصہ دجال سے جنگ کرے گا۔ اس کو نہ ظالم کا ظلم روکے گا اور نہ عادل کا عدل۔ اور تقدیر کے اوپر ایمان لانا (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2532)۔ اللہ کے یہاں ہر آدمی کا فیصلہ اس کی نیت کے بنیاد پر کیا جائے گا۔ مگر انسان کسی کی داخلی نیت کو نہیں جان سکتا۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے ظاہر کی بنیاد پر اس کے ساتھ معاملہ کرے ۔ وہ ان کے باطن کی بنیاد پر کوئی حکم نہ لگائے۔
جہاد سے مراد جہاد بالقرآن ہے، یعنی پر امن دعوتی عمل۔ عادل حاکم کا زمانہ ہو تب بھی جہاد کا عمل جاری رہے گا۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد مسلح جہاد نہیں ہو سکتا ، کیوں کہ عادل حاکم کے خلاف مسلح جہاد ایک فساد کا عمل ہو گا، نہ کہ جہاد کا۔ پر امن دعوتی عمل ایک ایسا کام ہے، جس کا تعلق ظالم حکمران یا عادل حکمران سے نہیں ہے۔ یہ ہر دور میں بلا انقطاع جاری رہنے والا عمل ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا جد وجہد کی دنیا ہے۔ یہاں اسلامی مقاصد کے لیے فکری جہاد کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ یہ عمل دورِ آخر میں دجال کے ظہور تک جاری رہے گا۔ دجال سے مراد غالباً کوئی فرد نہیں ہے، بلکہ ایک عظیم فتنہ ہے۔ دجال سے قتال کا مطلب غالباً مسلح جنگ نہیں ہے بلکہ فتنہ دجال کے خاتمہ کے لیے متواتر فکری جدو جہد ہے۔ اسلام کی ایک بنیادی تعلیم تقدیر ہے۔ تقدیر کے عقیدہ کا مطلب انسان کی مجبوری کو بتانا نہیں ہے، بلکہ خدا کی قدرتِ کاملہ کو بتانا ہے۔ خدا نے اپنی قدرتِ کاملہ کے تحت آزمائش کی مصلحت کی بنا پر انسان کو آزادی عطا فرمائی ہے۔ آزادی کا یہ ماحول قیامت تک باقی رہے گا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس وقت ایمان اس سے نکل جاتا ہے ۔ وہ اس کے سر کے اوپر سائبان کی طرح رہتا ہے۔ پھر جب
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues