Al-Risala · July 2023 · page 25

دعوت کے حدود

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۲۵

وہ اس بُرے عمل سے باہر آتا ہے تو اس کا ایمان اس کی طرف واپس آجاتا ہے (سنن الترمذی ، حدیث نمبر 2625 ؛ سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر 4690)۔

زنا ایک بد اخلاقی کا عمل ہے اور ایمان ایک پاکیزہ حقیقت۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ زنا کے وقت زانی کا ایمان اس سے جدا ہو جاتا ہے۔ تاہم اگر اس کے زنا کی حیثیت ایک وقتی فعل کی ہو اور اس کے بعد وہ حقیقی معنوں میں ندامت کا ثبوت دے تو اس کا ایمان اللہ کی رحمت سے دوبارہ اسے حاصل ہو جائے گا۔

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دس باتوں کی نصیحت فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ، اگرچہ تم کو قتل کر دیا جائے اور تم کو جلا دیا جائے۔ اور تم اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرو ، اگرچہ وہ تم کو حکم دیں کہ تم اپنے اہل کو اور اپنے مال کو چھوڑ دو۔ اور تم ہرگز جان بوجھ کر فرض نمازوں کو نہ چھوڑو۔ کیوں کہ جس نے جان بوجھ کر فرض نماز کو چھوڑا تو اللہ کا ذمہ اس سے جاتا رہتا ہے۔ اور تم ہرگز شراب نہ پیو کیوں کہ وہ ہر برائی کی جڑ ہے۔ اور تم اللہ کی نافرمانی سے پوری طرح بچو۔ کیوں کہ نافرمانی سے اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔ اور تم ہرگز میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو ، اگرچہ لوگ ہلاک ہو جائیں اور اگر لوگوں پر موت (وبا) آجائے اور تم ان میں موجود ہو تو تم اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ اور اپنے گھر والوں پر اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرو اور تادیب کا عصا ان کے اوپر سے نہ ہٹاؤ۔ اور اللہ کے معاملہ میں انھیں ڈراتے رہو (مسند احمد، حدیث نمبر 22075)۔

اس حدیث میں وہ ذمہ داریاں بتائی گئی ہیں جو ایک مومن پر انفرادی حیثیت سے عاید ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض احکام کا تعلق روزانہ کی زندگی سے ہے ، مثلاً شرک سے پرہیز اور نماز کا اہتمام۔ اور بعض احکام کا تعلق حالات کی نسبت سے ہے۔ یعنی وہ اس وقت مطلوب ہیں جب کہ عملی طور پر ان کے مطابق صورت حال پیش آجائے۔ مثلاً مقابلہ کے میدان سے کسی بھی حال میں نہ ہٹنا۔ ’’تادیب کا عصا نہ ہٹاؤ‘‘ کا مطلب مارنا پیٹنا نہیں ہے ، اس سے مراد اصلاً وہ اخلاقی دباؤ ہے جو گھر کے اندر نظم برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے ، تا کہ گھر میں انارکی کا ماحول قائم نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page