Al-Risala · July 2023 · page 61

دعوت کے حدود

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۶۱

حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نفاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا۔ اب آج یا تو کفر ہے یا ایمان (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7114)۔

اس روایت میں نفاق یا منافقت سے مراد وہ کردار ہے جو شبہ کی نفسیات میں مبتلا ہو۔ اور اس بنا پر وہ مخلصانہ ایمان کے درجہ تک نہ پہنچ سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام اپنے ابتدائی دور میں تھا۔ نظریہ وعمل کے اعتبار سے وہ اس طرح مستحکم نہیں ہوا تھا جس طرح وہ آپ کے برپا کردہ انقلاب کے بعد ہوا۔ اس لیے ابتدائی دور میں کمزور افراد کے لیے اس شبہ کی گنجائش ہوسکتی تھی کہ یہ واقعی صداقت ہے یا نہیں۔ مگر بعد کے زمانے میں جب اسلام نظری اور عملی دونوں اعتبار سے قائم اور مستحکم ہو گیا تو اس کے بعد یہ گنجائش نہ رہی کہ کوئی شخص اس کی صداقت کے بارے میں شبہ کر سکے۔ اب انسان کے لیے شبہ کا امکان ختم ہو گیا۔ اب اس کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب باقی رہا ــــ پوری طرح انکار یا پوری طرح اقرار۔

اس روایت میں منافق کا قانونی حکم نہیں بتایا گیا ہے۔ بلکہ اس کی وہ حیثیت بتائی گئی ہے جو اس کی اللہ کے نزدیک ہے۔ اس روایت کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں کسی شخص کو شبہ کا فائدہ (benefit of doubt) مل سکتا تھا۔ مگر جب اسلام ہر اعتبار سے ایک واضح اور ثابت شدہ حقیقت بن گیا تو اب اللہ کے یہاں کسی کو شبہ کی رعایت نہیں ملے گی۔ اب اگر کوئی شخص اسلام کی صداقت پر شبہ کرے تو وہ اللہ کے نزدیک ایک ایسا انسان قرار پائے گا جس نے تمام دلائل وحقائق سامنے آنے کے باوجود خدا کے دین کے ساتھ مخلصانہ تعلق قائم نہیں کیا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے میری امت سے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جو ان کے دلوں میں گزریں۔ جب تک وہ اس پر عمل نہ کرے یا اس کو زبان پر نہ لائے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 2528؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 127)۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت محمدی پر وسوسوں کی پکڑ نہیں ہے، جب کہ اس سے پہلے کی امتوں کا معاملہ ایسا نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وسوسہ پر پکڑ نہ ہونا بلکہ عمل پر پکڑ ہونا، یہ اللہ کا عام

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page