دعوت کے حدود
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۲۷
قانون ہے۔ اس کا تعلق ہر دور کے تمام انسانوں سے ہے۔ حدیث کے مذکورہ الفاظ کی نوعیت اسلوب کلام کی ہے جو مخاطب کی نسبت سے اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بات اپنے آپ مفہوم (understood) ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں کے لیے وسوسہ پر پکڑ نہیں تھی اسی طرح میری امت کے لیے بھی وسوسہ پر پکڑ نہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انھوں نے پوچھا کہ ہم اپنے دلوں میں ایسی بات پاتے ہیں جس کو زبان پر لانا ہمیں بہت زیادہ سنگین معلوم ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم ایسا پاتے ہو۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تو کھلا ہوا ایمان ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 132)۔
ایمان، نفسانی وسوسوں کے ساتھ ایک مسلسل جنگ ہے۔ مومن وہ ہے جو وسوسوں کو دبائے، نہ کہ خود اس سے دب جائے۔ نفسانی وسوسوں کو اس حد تک برا سمجھنا کہ ان کو زبان پر لانا بھی آدمی کو گوارہ نہ ہو، یہ خود ایمان کی ایک یقینی حالت ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی شخص کے پاس آتا ہے، اور (اس کے ذہن میں) یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا، فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا۔ یہاں تک کہ وہ کہتا ہے کہ تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا۔ جب ایسا ہو تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اللہ سے پناہ مانگے اور اس سے رک جائے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 3276؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 134)۔
یہ بھی علم ہے کہ آدمی علم کی حد کو جانے۔ یعنی وہ اس حقیقت کو جانے کہ میں کیا جان سکتا ہوں، اور وہ کیا چیز ہے جس کو اپنی محدودیت کی بنا پر میں نہیں جان سکتا۔ مثلاً آدمی یہ جان سکتا ہے کہ درخت بیج سے نکلا اور پانی دو گیسوں کے ملنے سے بنا۔ مگر خود بیج اور گیس کی ابتدا کیسے ہوئی، اس کو جاننا انسان کے لیے ممکن نہیں۔ انسانی تاریخ اپنی تمام تر علمی دریافتوں کے باوجود جہاں تک پہنچی ہے یا پہنچ سکتی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر صرف جزئی علم دے سکے۔ ماڈرن سائنس کے حوالے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues