دعوت کے حدود
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۲۸
سے اس واقعہ کو جے این سلیون (J. W. N. Sullivan) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔ سائنس سے انسان کو حقیقت کا صرف جزئی علم حاصل ہوتا ہے :
Science gives us but a partial knowledge of reality. (Limitations of Science, London, 1983, p. 182)
یہ ایک حقیقت ہے کہ علم کلی تک پہنچنے کی راہ میں انسان کی ذاتی محدودیت فیصلہ کن طور پر حائل ہے۔ اپنی اسی محدودیت کی بنا پر انسان خدا کے تخلیقی مظاہر کو تو جان سکتا ہے مگر خدا کے وجود کی وسعتوں کا احاطہ کرنا انسان کے لیے ہرگز ممکن نہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا کہ یہ مخلوق ہے جس کو خدا نے پیدا کیا۔ پھر خدا کو کس نے پیدا کیا۔ پس جو شخص اپنے دل میں اس قسم کا کوئی خیال پائے تو وہ کہے کہ میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے رسولوں پر (متفق علیہ : صحیح البخاری، حدیث نمبر 7296 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 134)۔ انسانی غور و فکر کا ایک معلوم دائرہ ہے اور دوسرا اس کا نامعلوم دائرہ ۔ دانش مند وہ ہے جو اپنے معلوم دائرے میں تو وہ کلی علم تک پہنچنے کی پوری کوشش کرے۔ مگر اس کا نامعلوم دائرہ آجائے تو وہ جزئی علم پر راضی ہو جائے۔ معلوم دائرے میں براہ راست علم تک پہنچنے کی کوشش کرنا ایک مستحسن فعل ہے۔ مگر نامعلوم دائرے کے لیے یہ مطلوب ہے کہ آدمی بالواسطہ علم پر قناعت کرے۔ یہی اس دنیا میں عملی نقطہ نظر ہے، اور یہی وہ نقطہ نظر ہے جس کو موجودہ زمانے میں سائنٹفک نقطہ نظر کہا جاتا ہے۔ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کے اوپر اس کا ایک ساتھی مقرر کر دیا جاتا ہے جنات میں سے، اور فرشتوں میں سے ۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا آپ کے ساتھ بھی۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں میرے ساتھ بھی۔ لیکن خدا نے مجھے اس کے اوپر مدد دی ۔ تو اس نے اسلام قبول کر لیا ، پس وہ مجھ کو ہمیشہ بھلائی کا مشورہ دیتا ہے (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 69) ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues