Al-Risala · July 2023 · page 40

28 فروری 1986

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۴۰

آج جناب انور علی بیگ (لکھنؤ) ملنے کے لیے آئے۔ وہ انجینئر ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اسلامیات میں آپ نے کیا کیا چیزیں پڑھی ہیں؟ ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مولانا مودودی کا بیشتر لٹریچر پڑھ چکے ہیں۔ ’’تفہیم القرآن‘‘ کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ مولانا مودودی کی فکر سے متاثر ہیں۔ اقبال کی بھی وہ کافی تعریف کر رہے تھے۔ اقبال کو انہوں نے اپنا مینٹر (mentor) بتایا۔

گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ آپ کے صبر کی پالیسی سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ اسلام کے احیاء کے لیے ہمیشہ ’’کربلا‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ کربلا کا رزلٹ (نتیجہ) بتائیے کہ کیا تھا؟ اس کے جواب میں وہ لمبی چوڑی تقریر کرتے رہے جو اصل سوال سے غیر متعلق تھی۔ میں نے انھیں یاد دلایا کہ میں نے آپ سے کربلا کا رزلٹ دریافت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کربلا کا رزلٹ ہے: پرنسپل (اصول) پر سمجھوتہ نہ کرنا۔ میں نے کہا کہ تاریخ سے یہ رزلٹ ثابت نہیں ہوتا۔ یہ تو محض شاعری ہے کہ ’’سر داد مگر نداددست در دست یزید‘‘۔ ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ امام حسین نے آخری لمحہ میں بیعت کی پیشکش کر دی تھی۔ چنانچہ تاریخ میں اس قسم کے الفاظ امام حسین کی طرف منسوب کیے گئے—وَإِمَّا أَنْ أَضَعَ يَدِي فِي يَدِ يَزِيدَ (انساب الاشراف للبلاذری، جلد 3، صفحہ 182)—یعنی، میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں رکھ دوں۔ اس کے جواب میں وہ تاریخ کے غیر معتبر ہونے پر تقریر کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ کربلا کے نہ آپ عینی شاہد ہیں اور نہ اقبال۔ ایسی حالت میں ہم کو تاریخ ہی پر تو بھروسہ کرنا پڑے گا۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ بیشتر لوگوں کی بات میں consistancy نہیں ہوتی۔ وہ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔ جب کہ علمی گفتگو اس کا نام ہے کہ آدمی اصل پوائنٹ پر قائم رہ کر بولے، وہ اس سے ادھر اُدھر نہ ہٹےؔ۔ جناب محمد مخدوم صاحب (کشن گنج، دہلی) ملنے کے لیے آئے۔ انھوں نے تبلیغی جماعت میں چلہ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا محمد الیاس صاحب کہا کرتے تھے :

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page