تکرار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۵
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے اوپر ایک اثر شیطان کا ہے اور ایک اثر فرشتے کا۔ پس شیطان کا اثر تو شر سے ڈرانا اور حق کو جھٹلانا ہے۔ اور فرشتے کا اثر نیکی پر ابھارنا اور حق کی تصدیق کرنا ہے۔ پس جو آدمی اس کو پائے تو اس کو جاننا چاہیے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور پھر وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جو شخص دوسری کیفیت اپنے اندر پائے تو وہ شیطان کے مقابلے میں اللہ سے پناہ مانگے۔ پھر آپ نے قرآن (2:268) کی یہ آیت پڑھی: اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ ( شیطان تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے اور بری بات کی تلقین کرتا ہے) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2988۔
انسان کے اندر دو مختلف قسم کے محرکات کی خبر اس لیے دی گئی ہے تا کہ جب وہ اپنی زندگی میں ان میں سے کسی کی علامت دیکھے تو وہ اس کی حقیقت کو پہچان لے۔ ایک علامت پر وہ شیطان سے بچنے کی کوشش کرے اور دوسری علامت پر وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس سے قریب ہو جائے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ پوچھ گچھ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ مخلوق کو خدا نے پیدا کیا تو خدا کو کس نے پیدا کیا۔ پھر جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو: اَللّٰهُ اَحَدٌ۔ اَللّٰهُ الصَّمَدُ۔ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ۔ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ (اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ کسی کی اولاد۔ اور کوئی اس کے برابر کا نہیں)۔ پھر وہ اپنے بائیں طرف تین بار تھُتکارے، اور شیطان کے مقابلے میں اللہ کی پناہ مانگے (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4722)۔
یہ حدیث موجودہ دور میں پیدا ہونے والی عقلیت پسندی کی پیشین گوئی ہے۔ مگر اس میں یہ بھی بتا دیا گیا کہ اس قسم کا سوال خود وقت کے عقلی نقطہ نظر سے سراسر بے بنیاد ہوگا۔ خدا کا وجود اتنا زیادہ واضح ہے کہ وہ جس طرح پچھلے زمانے میں ثابت شدہ تھا اسی طرح وہ بعد کے زمانے میں بھی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues