تکرار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۶
اس بحث کے ضمن میں یہ سوال بالکل غیر متعلق ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا۔ خدا اگر پیدا کرنے سے وجود میں آئے تو وہ کائنات کو پیدا کرنے والا نہیں بن سکتا۔ خدا اپنے آپ میں موجود ہے اسی لیے وہ اس کائنات کو وجود میں لاسکا۔ کائنات کی موجودگی خدا کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ اگر ہم خدا کے وجود کا انکار کریں تو ہمیں کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ چونکہ ہم کائنات کے وجود کا اقرار کرنے پر مجبور ہیں اس لیے ہم خدا کے وجود کا اقرار کرنے پر بھی مجبور ہیں۔
اس معاملے میں خود عقلی سائنس کی رو سے کوئی دوسرا انتخاب ہمارے لیے سرے سے ممکن نہیں۔ جدید سائنس نے کائنات کے ظہور کے بارے میں جو حقائق دریافت کیے ہیں اس کے بعد اب انسان کے لیے انتخاب (choice) بے خدا کائنات اور باخدا کائنات کے درمیان نہیں ہے۔ بلکہ باخدا کائنات اور غیر موجود کائنات کے درمیان ہے۔ اگر ہم خدا کے وجود کو نہ مانیں تو ہمیں کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ چونکہ ہم کائنات کے وجود کا انکار نہیں کرسکتے اس لیے ہم خدا کے وجود کا بھی انکار نہیں کرسکتے۔ جدید سائنسی دریافتوں کے بعد خدا کے وجود کو ماننا اتنا ہی لازمی بن چکا ہے جتنا کہ کائنات کے وجود کو ماننا۔ (تفصیل کے لیے راقم الحروف کی کتابوں کو دیکھیے: مذہب اور جدید چیلنج، خدا کی دریافت، وغیرہ)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ برابر سوال کرتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ وہ کہیں گے کہ اگر خدا نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا۔ یہ بخاری کی روایت ہے۔ اور مسلم کی روایت میں اس طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہاری امت کے لوگ برابر کہتے رہیں گے۔ یہ کیا اور یہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ کہیں گے کہ خدا نے مخلوقات کو پیدا کیا تو خدا کو کس نے پیدا کیا (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 7296؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 136)۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں جب عقلی بحثوں کا زور بڑھے گا تو خود
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues