تکرار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۷
امت مسلمہ کے لوگ بھی ذہنی طور پر اس سے متاثر ہو جائیں گے۔ اور وہ بھی وقت کی بولی بولنے لگیں گے۔ اس زمانے میں اس قسم کی گمراہی کا مقابلہ کرنے کے لیے جو فکری جدوجہد دوسرے لوگوں پر کی جائے گی۔ وہی خود امت کی فکری اصلاح کے لیے بھی ضروری ہوگی۔
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول شیطان میرے اور میری نماز اور میری قرآت کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور مجھ پر نماز میں شبہ ڈالتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ شیطان ہے جس کو خنزب کہا جاتا ہے۔ پس جب تم اس کو محسوس کرو تو تم اس سے اللہ کی پناہ مانگو۔ اور اپنے بائیں طرف تین بار تھُتکارو۔ پس میں نے ایسے ہی کیا تو اللہ نے اس کو مجھ سے دور کر دیا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 68)۔
اس حدیث میں جو مخصوص طریقہ بتایا گیا ہے اس کی حیثیت اضافی ہے۔ اس کا اصل مدعا یہ ہے کہ جب بھی کسی آدمی کو یہ محسوس ہو کہ شیطان اس کو خدا کی یاد سے ہٹا رہا ہے تو وہ فوراً تعوذ کے کلمات زبان سے ادا کر کے شیطان سے پناہ مانگے۔ یہ گویا اپنے آپ کو غفلت سے نکال کر شعور کی حالت میں لانا ہے۔ یہ خدا کی مدد سے شیطان کے اوپر قابو پانا ہے۔ قرآن میں رہنمائی کی گئی ہے: جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی بُرا خیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فوراً (اللہ کو) یاد کرتے ہیں اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آجاتی ہے (7:201)۔
قاسم بن محمد تابعی سے ایک آدمی نے سوال کیا۔ اس نے کہا کہ مجھے اپنی نماز میں وہم پیش آتا ہے۔ اور یہ مجھ پر بہت گراں گزرتا ہے۔ انھوں نے اس آدمی سے کہا کہ تم اپنی نماز جاری رکھو۔ کیوں کہ یہ چیز تم سے جانے والی نہیں، یہاں تک کہ تم اپنی نماز پوری کرو اور کہو کہ میں نے اپنی نماز پوری نہیں کی (موطا امام مالک، حدیث نمبر 3)۔
اس معاملے کا تعلق جس طرح نماز سے ہے اسی طرح اس کا تعلق دوسرے دینی اعمال سے بھی ہے۔ اس دنیا میں یہ مطلوب نہیں کہ آدمی کا احساس یہ ہو کہ میں نے معیاری عمل کر لیا۔ اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues