Al-Risala · September 2023 · page 27

7مارچ1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۷

زبان میں ترجمہ ہو کر چھپی ہے ویسی عمدہ انگریزی زبان میں ابھی تک کسی بھی اسلامی ادارے کی کوئی کتاب شائع نہ ہوسکی ۔ الحمد للہ علی ذلک ۔

آج ہندستان ٹائمس کے سنڈے میگزین میں ایک کتاب پر تبصرہ شائع ہوا ہے : The Viceroys of India by Mark Bence-Jones, pp. 343, 1982 یہ کتاب ہندستان کے برٹش راج کا تفصیلی ریکارڈ ہے۔ ہندستان میں برٹش راج 175 سال تک رہا۔ اس مدت میں کل 29 گورنر جنرل (وائسرائے) مقرر ہوئے۔ پہلے برٹش گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز (Warren Hastings, 1732-1818) تھے جو 1774ء میں کلکتہ آئے اور آخری برٹش وائسرائے لوئی ماؤنٹ بیٹن (Louis Mountbatten, 1900-1979) تھے جو جون 1948ء میں شاندار الوداعی پارٹی کے بعد دہلی سے واپس ہو کر انگلستان گئے۔ انگریزوں نے ایک طرف قومی شعور کا زبردست ثبوت دیا۔ اپنے مرکز سے غیر معمولی دوری کی بنا پر ہر وائسرائے کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ بغاوت کرکے ہندستان میں اپنی آزاد حکومت قائم کر لے ۔ مگر 29 وائسرائے میں سے کسی نے بھی اس قسم کا باغیانہ منصوبہ نہیں بنایا۔ مگر یہی لوگ جو آپس میں لڑنے کو حد درجہ غلط سمجھتے تھے انہوں نے ہندستان میں اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کا جو سب سے بڑا راز دریافت کیا وہ یہ تھا : "لڑاؤ اور حکومت کرو" (Divide and Rule) ۔ لارڈ ڈفرن (Lord Dufferin, 1826-1902) نے 1885ء میں ہندو مسلم جھگڑے شروع کروائے۔ اس کے بعد وہ بڑھتے ہی رہے۔ انگریزی حکومت 1947ء میں ختم ہو گئی ، مگر ہندو مسلم جھگڑے آج بھی ختم ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں ۔ شاید ہمالیہ کی سرزمین فرقہ وارانہ جھگڑوں کے لیے بہت زرخیز ہے۔

تقریباً روزانہ میری نیند فجر سے پہلے کھل جاتی ہے۔ ابھی میں بستر ہی پر ہوتا ہوں کہ دل سے دعا کے کلمات نکلنے لگتے ہیں، اور یہ بالکل بے ساختہ طور پر ہوتا ہے۔ یہ گویا قرآن کے الفاظ "وَعَلى

‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues

Printed page