Al-Risala · September 2023 · page 28

11 مارچ 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۸

جنُوبُھمْ “ (3:191) ایک تجربہ ہوتا ہے، اور یہ روزانہ مجھ پر گزرتا ہے۔ یعنی، اور وہ اپنے پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں۔

آج فجر سے پہلے نیند کھلی۔ میں ابھی بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ کمرہ میں، میں بالکل تنہا تھا اور کمرہ میں اندھیرا تھا۔ مگر دل سے مسلسل دعائیں نکلنے لگیں، بالکل ویسے ہی جیسے کسی مادہ سے اس کی فطری خاصیت اپنے آپ ظاہر ہو۔ خدایا مجھے بخش دے، خدایا مجھ پر رحم فرما، خدایا تو دنیا و آخرت میں میرا مددگار ہوجا۔ میں ان دعاؤں میں مشغول تھا کہ اچانک مجھے خیال آیا کہ دعا کا کائنات کا ایک انوکھا مظہر ہے۔ جس طرح مادہ سے ایک خاصیت کا ظاہر ہونا، اس مادہ کے اندر ایک متعین خاصیت کی موجودگی کا ثبوت ہوتا ہے، اسی طرح انسان کے اندر دعا کا نکلنا خدا کی موجودگی کا قطعی اور یقینی ثبوت ہے۔ دعا کیا ہے؟ دعا ایک ہستی کو دیکھے بغیر پکارنا ہے۔ ایک ہستی جو آس پاس کہیں نظر نہ آرہی ہو، اس سے اس طرح ہم کلام ہونا جیسے کہ وہ ہمارے بالکل قریب موجود ہے۔ اس طرح انسان کسی اور کو نہیں پکارتا۔ نہ اپنے دوستوں کو، نہ کسی حکمران کو، نہ سورج اور چاند کو۔ کسی کی غیر موجودگی میں اس کو پکارنا اور اس سے ہم کلام ہونا خاص الخاص صرف خدا کے لیے ہوتا ہے۔ حتی کہ مشرک اور ملحد بھی نازک وقتوں میں اپنی مزعومہ ہستیوں کو نہیں پکارتے۔ ایسے موقع پر ان کے دل سے بھی جب پکار نکلتی ہے تو خدا ہی کے لیے نکلتی ہے۔

یہ اس بات کا نفسیاتی ثبوت ہے کہ یہاں ایک عظیم ہستی ہے جو سنتی اور جانتی ہے اور جس کو ہر قسم کا اختیار حاصل ہے۔

11 مارچ 1986

علی گڑھ سے ایک نوجوان آئے۔ وہ مسلم یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے فائنل ایئر میں ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ علی گڑھ کے مسلمان طلبا اپنی تحریک ہمیشہ اسلام کے نام پر چلاتے ہیں۔ حالاں کہ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انہوں نے علی گڑھ کے مسلم طلبا کی حمایت کی اور کہا کہ آپ کی یہ بات درست نہیں۔ ہمارے یہاں کے طلبا میں زبردست اسلامی جذبہ ہے۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues

Printed page