Al-Risala · January 2023 · page 31

جنت کا استحقاق

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۳۱

غلط فہمی سے بچنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری تدبیر یہ ہے کہ آدمی محض سن کر کسی بات پر یقین نہ کرے۔ سنی ہوئی بات اکثر غلط ہوتی ہے۔ کسی معاملہ کی صحیح رپورٹ دینا بے حد مشکل کےم ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ کم ہوتے ہیں جو کسی واقعہ کو ٹھیک ویسا ہی بیان کریں جیسا کہ وہ ہے۔ اگر ایک آدمی کے دل میں دوسرے آدمی کے خلاف غلط فہمی پیدا ہوجائے تو فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ غلط فہمی میں مبتلا ہونے والا شخص اس آدمی سے ملے اور خود صاحب معاملہ سے تحقیق کرے۔ براہ راست تحقیق کے بغیر کسی کے بارے میں بری رائے قائم کرنا سخت گناہ ہے۔

جو آدمی غلط فہمی میں مبتلا ہو اس کے اوپر یہ فرض ہے کہ اس نے جس طرح کسی کے بارے میں ایک بری رائے قائم کی ہے اسی طرح وضاحت کے بعد وہ اس بری رائے کو اپنے دماغ سے نکالے اور اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ذہن کی اصلاح کرلے۔ جس آدمی کے اندر غلطی کے اعتراف کا مادہ نہ ہو اس کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ کسی کے بارے میں غلط رائے کو اپنے ذہن میں جگہ دے۔

تجربہ بتاتا ہے کہ غلط فہمی اکثر حالات میں بے بنیاد ہوتی ہے۔ آدمی یک طرفہ رپورٹ یا ناقص معلومات کی بنیاد پر ایک بری رائے قائم کرلیتا ہے۔ حالانکہ اگر کھلے ذہن کے ساتھ تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہاں سرے سے ایسی کوئی چیز موجود ہی نہ تھی۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ یا تو اتنا باشعور بنے کہ وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھ لے، اس کا ذہن اپنے آپ ہی غلط فہمی کو اپنے اندر جگہ دینے سے انکار کردے۔ اور اگر کوئی آدمی اتنا زیادہ باشعور نہ ہو تو انسانیت کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ وہ غلط فہمی میں پڑنے سے پہلے براہِ راست طور پر اس کی مکمل تحقیق کرے۔ وہ اس وقت تک ہرگز کسی بات کو نہ مانے جب تک وہ تحقیق کی تمام شرطوں کے ساتھ اس کا جائزہ نہ لے چکا ہو۔

تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو ہر بری بات کو سنتے ہی اسے مان لیں۔ ایسے لوگ بلاشبہ اسلام سے دور ہیں۔ خواہ بطور خود وہ اپنے آپ کو اسلام کا اعلیٰ معیار پر سمجھتے ہوں۔ غلط فہمی دراصل ناقص معلومات کی بنیاد پر کامل رائے قائم کرنے کا دوسرا نام ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues

Printed page