Al-Risala · September 2023 · page 29

12 مارچ 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۹

ملک میں وہ اسلامی زندگی کا نشان ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

میں نے کہا کہ علی گڑھ کے مسلم طلبا اسلام کا نام تو ضرور لیتے ہیں مگر ان کی سرگرمیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی مثال دیجیے۔ میں نے کہا کہ ہاں میں آپ کو ایک متعین مثال دیتا ہوں۔

اس کے بعد میں نے کہا کہ پروفیسر عرفان حبیب (پیدائش 1931ء) کے مسئلے کو لیجیے۔ جن کے خلاف مسلم لڑکوں نے اتنے ہنگامے کیے کہ یونیورسٹی بند کر دینی پڑی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اخبار انڈین ایکسپریس (3 جنوری، 1981) میں پروفیسر عرفان حبیب کا ایک انٹرویو چھپا۔ اس انٹرویو پر علی گڑھ کے مسلم طلبا کو سخت اعتراض ہوا۔ میں پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ اس انٹرویو میں خالص حقیقت کے اعتبار سے کوئی قابل اعتراض بات نہ تھی۔ تاہم اس سے قطع نظر اس انٹرویو کے خلاف مسلم طلبانے جو کچھ کیا وہ سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف تھا۔ مثلاً مسلم طلبانے پروفیسر عرفان حبیب پر اسٹک سے حملہ کیا۔ اگرچہ اتفاقی طور پر وہ بچ گئے۔ اب میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اگر تم بدلہ لینا چاہو تو اس کے مثل بدلہ ہو جو تمہارے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس قرآنی حکم کے مطابق اسلامی طریقہ یہ تھا کہ آپ پروفیسر عرفان حبیب کے مضمون کے جواب میں خود بھی ایک مضمون شائع کر دیتے ۔ مگر قلم کا جواب ڈنڈے سے دینا اس قرآنی حکم کے سراسر خلاف ہے۔ پھر ایسی تحریک کو آپ کس طرح اسلامی تحریک کہہ سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں وہ خاموش ہو گئے۔

12 مارچ 1986

اخبار ٹائمس آف انڈیا کا ایک سپلیمنٹ Woman کے نام سے نکلا۔ یہ 8 مارچ 1986 کے اخبار کے ساتھ مجھے ملا تھا۔ مگر فوراً میں اس کو نہ پڑھ سکا تھا۔ اب آج اس کو دیکھا۔ اس میں ایک طویل مضمون مدھو کشور (پیدائش 1951ء) کا ہے۔ یہ ایک ہندو خاتون ہیں جو منوشی (Manushi) نامی فیمینزم میگزین کی ایڈیٹر ہیں۔ اس مضمون کا عنوان ہے:

Another Look at the Shah Bano Controversy

‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues

Printed page