13 مارچ 1986
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۰
محترمہ مدھو کشور کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ کافی آزاد خیال ہیں۔ حتیٰ کہ جناب توقیر صاحب کے بیان کے مطابق وہ میرج کے انسٹی ٹیوشن میں یقین نہیں رکھتیں۔ ان کے اس مضمون میں جو بات سب سے زیادہ ابھری ہوئی ہے وہ ان کے الفاظ میں عورت پر مرد کے تسلط کے خلاف احتجاج ہے۔ اس مضمون میں گویا انہوں نے مرد کے خلاف اپنا بخار نکالا ہے۔ ان کا ایک جملہ یہ ہے: Through centuries, most men have used religion to legitimise their unjust domination of women in most parts of the world. غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں ہر گروہ ایک ہی مقام پر ہے۔ مدھو کشور شاہ بانو کے معاملہ کو آڑ بنا کر مرد کے خلاف اپنا بخار نکال رہی ہیں۔ ہندو عناصر اس معاملہ کو لے کر مسلمانوں کے خلاف اپنا بخار نکال رہے ہیں اور مسلم پرسنل لا کا تحفظ کرنے والے لوگ شاہ بانو کیس کو بہانہ بنا کر ہندوؤں کے خلاف اپنا بخار نکال رہے ہیں۔
ہر آدمی اپنے دل کا بخار نکالنے میں مصروف ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی شخص ایک کے خلاف اپنا بخار نکال رہا ہے اور کوئی شخص دوسرے کے خلاف۔
13 مارچ 1986
احمد اللہ بختیاری (رائچوٹی) ایک نوجوان ہیں۔ وہ آج ملنے کے لیے آئے۔ وہ ریاض (سعودی عرب) کی جامعۃ الامام سے فارغ ہیں۔ وہاں انہوں نے سات سال رہ کر عربی ادب کی تکمیل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں ان کے ایک استاد ڈاکٹر محمد علی الہاشمی تھے جو کہ ڈاکٹر طہٰ حسین کے شاگرد ہیں۔ ڈاکٹر محمد علی الہاشمی نے ادیب کی تعریف ان الفاظ میں کی: الاديب ما يلعب بالا لفاظ ( ادیب وہ ہے جو الفاظ کے ساتھ کھیلے) ۔ اس کو الفاظ پر اتنا قابو ہو کہ جس لفظ کو جہاں چاہے رکھے اور جہاں سے چاہے ہٹائے۔
میں نے کہا کہ ادب کی یہ تعریف ادب کے قدیم تصور پر مبنی ہے۔ ادب کا ایک تصور وہ ہے جس کی نمائندگی مقامات حریری جیسی کتابیں کرتی ہیں۔ ان میں سارا زور الفاظ پر ہوتا ہے۔ اس کے مطابق ادب کا کمال یہ ہے کہ وہ مسجع اور مقفیٰ عبارت لکھ سکے۔ پہلا جملہ جس لفظ پر ختم ہوا ہے دوسرے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues