13 مارچ 1986
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۱
جملے کے خاتمے کے لیے بھی اس کو ویسا ہی لفظ مل جائے۔ مثلاً قدیم عرب کے مشہور مقرر قس بن ساعدہ ایادی کی تقریر کا ایک جملہ یہ ہے: طَحَنَهُمُ الثَّرَى بِكَلْكَلِهِ، وَمَزَّقَهُمْ بِتَطَاوُلِهِ (دلائل النبوة للبیہقی، جلد 2، صفحہ 109)۔
قدیم زمانہ میں شاعری کا زور تھا۔ اس لیے قدیم زمانہ میں الفاظ کی موزونیت باعتبار آہنگ پر زور دیا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنس کا زور ہے۔ اس لیے اب الفاظ کی موزونیت باعتبار معنی پر زور دیا جاتا ہے۔ قدیم تصور کے مطابق ذخیرہ الفاظ کی زیادہ اہمیت تھی، مگر اب ادراک معنی کی زیادہ اہمیت ہے۔ قدیم تصور ادب کے مطابق آدمی کے پاس الفاظ کا ڈھیر جتنا زیادہ ہوتا نا ہی زیادہ وہ موزوں جملے بنا سکتا تھا۔ مگر جدید تصور ادب کے مطابق جس شخص کا ادراک جتنا زیادہ بڑھا ہوا ہو ا اتنا ہی زیادہ موزوں الفاظ (appropriate words) اس کی زبان و قلم سے ظاہر ہوں گے۔ 14 مارچ 1986 میں تذکیر القرآن (سورہ العنکبوت) کے کتابت شدہ صفحات برائے تصحیح دیکھ رہا تھا۔ درمیان میں اس کے ایک صفحہ کی نقل لینے کی ضرورت پیش آئی۔ ہمارے دفتر میں فوٹو کاپی مشین ہے۔ میں نے انٹر کام (intercom) پر نیچے بتایا۔ نیچے کے دفتر سے ایک آدمی آیا۔ اس کو میں نے مذکورہ صفحہ دیا۔ وہ صفحہ کو لے گیا اور اسی وقت اصل اور کاپی لا کر مجھے دے دی۔
مذکورہ صفحہ کی نقل ایک منٹ بعد میرے سامنے موجود تھی۔ عین وہی صفحہ بالکل صاف اور صحیح شکل میں چھپا ہوا تھا۔ اس کو دیکھ کر مجھ پر عجیب تاثر ہوا۔ میں نے کہا۔ قدیم زمانہ میں کسی صفحہ کی ایسی ایک نقل حاصل کرنا کس قدر دشوار اور کتنا دیر طلب کام تھا۔ آج یہ حال ہے کہ آدمی اس کو ایک منٹ میں حاصل کر لیتا ہے۔ یہ بلاشبہ خدا کا معجزہ ہے۔ ان واقعات کی موجودگی میں جو لوگ معجزہ طلب کریں وہ اندھے ہیں۔ اگر وہ بینا ہوتے تو یقیناً انہیں واقعات میں وہ معجزۂ خدا وندی کو دیکھ لیتے۔ پھر میں نے سوچا کہ نزول قرآن سے پہلے خدا کی طرف سے برابر معجزے آتے رہے۔ مگر نزول قرآن کے بعد معجزات کی آمد بند ہو گئی۔ اس کی وجہ غالباً نزول قرآن کے بعد دور سائنس کا آنا اور اس کے ذریعے قدرت کے بے شمار عجائبات ظہور میں آنا ہے۔ قرآن کے بعد سائنس کا زمانہ آرہا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues