Al-Risala · January 2023 · page 32

جنت کا استحقاق

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۳۲

اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کسی کے بارے میں ایک جزئی بات سنتا ہے اور اس سے اس آدمی کی کلی تصویر بنا لیتا ہے۔ کبھی کسی کا قول اس کے سیاق سے الگ ہو کر سامنے آتا ہے اور پورے سیاق کی روشنی میں دیکھے بغیر ایک ایسی رائے قائم کرلی جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق فہمیں ہوتا۔ کبھی کسی آدمی کے ایک ظاہری پہلو کو دیکھ کر اس کے باطن کے بارے میں ایک نظریہ بنا لیا جاتا ہے۔ کبھی کسی سنی ہوئی بات کو ٹھیک ویسا ہی مان لیا جاتا ہے حالانکہ مختلف راویوں سے گزر کروہ بات آخر کار ایک ایسی شکل اختیار کر لیتی ہے جس کا اصل واقعہ سے کوئی تعلق فہمیں ہوتا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے علم میں ایک بات آتی ہے اور وہ خود ساختہ تعبیر کے ذریعہ اس کا ایک مفہوم متعین کر لیتا ہے حالانکہ یہ تعبیر اصل حقیقت کے بالکل خلاف ہوتی ہے۔

اس قسم کی مختلف صورتیں ہیں جو غلط فہمی کا سبب بنتی ہیں۔ غلط فہمی کا یہ معاملہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ انتہائی صالح افراد بھی اس کی زد سے مستثنیٰ نہیں۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ لوگوں نے کسی کے خلاف انتہائی بھیانک قسم کی رائے قائم کر لی۔ حالانکہ اس کے پیچھے بے بنیاد غلط نہی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ ایسی حالت میں غلط نہی کے گناہ سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ آدمی کسی کے خلاف رائے قائم کرنے میں سخت محتاط ہو۔ وہ مکمل تحقیق کے بغیر کبھی ایسی کوئی رائے قائم نہ کرے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ یا تو سرے سے کسی کے بارے میں کوئی رائے ہی قائم نہ کرے اور اگر رائے قائم کرنا ضروری ہو تو اس کی تحقیق کا حق ادا کرے۔ رائے قائم نہ کرنے پر کسی کی کوئی پکڑ نہیں۔ مگر رائے قائم کرتے ہی آدمی خدا کی پکڑ کی زد میں آجاتا ہے۔ رائے قائم نہ کرنے والا معذور قرار دیا جا سکتا ہے۔ مگر مخالفانہ رائے قائم کرتے ہی اس کا عذر ختم ہو جاتا ہے۔ اب اس کا معاملہ یہ ہو جاتا ہے کہ یا تو وہ دوسرے کے بارے میں اپنی مخالفانہ رائے کو دلیل سے ثابت کرے ، یا خود اسی چیز کا مجرم بنے جس کا الزام وہ بے بنیاد طور پر دوسرے کو دینا چاہتا تھا۔

غلط فہمی یابدگمانی کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ بے حد ذمہ داری کی بات ہے۔ اگر آپ کسی کے خلاف برا گمان کرلیں تو آپ اپنے کو اس خطرہ میں مبتلا کر رہے ہیں کہ اگر فریق ثانی برا نہ ہو تو خدا کی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues

Printed page