گرین لینڈ، ایک وارننگ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴۵
گرین لینڈ، ایک وارننگ
اٹلانٹک اور آرکٹک کے درمیان واقع گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ اس کے نزدیک ترین ممالک کینیڈا اور آئس لینڈ ہیں۔ یہ جغرافی طور پر شمالی امریکہ کے براعظم کا حصہ ہے۔ تاہم، سیاسی لحاظ سے یہ جزیرہ ڈنمارک کا حصہ ہے۔ یہ دنیا میں برف پر مشتمل دنیا کی دوسری سب سے بڑی برفانی شیٹ بھی ہے۔ اس کے کل رقبے کا 81 فیصد برف کی چادروں سے ڈھکا ہوا ہے۔ مگر اب یہاں کی صورت حال تبدیل ہو رہی ہے۔ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر چھپی ایک رپورٹ (26 جنوری 2019ء) کے مطابق، گذشتہ دو دہائیوں کے درمیان گرین لینڈ میں برف کی چادر میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ 2003ء سے 2013ء تک گرین لینڈ کی برفانی چادر میں چار گنا کمی واقع ہوئی ہے۔ 2004ء سے سن 2013ء کی دہائی میں یہ عمل مسلسل اور شدید تھا جس کی مثال پچھلے 350 برسوں میں کسی ایک دہائی میں نہیں ملتی ہے۔ ۔۔ تحقیق سے حاصل شدہ نتائج کے مطابق گرین لینڈ کا جنوب مغربی حصہ جواب تک اس حوالے سے بڑا خطرہ تصور نہیں کیا جا رہا تھا اس کے بارے میں اب یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں سمندر کی سطح بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
کچھ دنوں پہلے ایک اور تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے۔ گرین لینڈ میں برف کا پگھلنا نہ صرف اوپر سے جاری ہے، بلکہ اندرونی طور پر بھی یہ پگھلاؤ جاری ہے۔ نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گرین لینڈ کی برفانی پرتیں نیچے سے تیزی سے پگھل رہی ہیں اور وہاں پانی جمع ہونے سے پوری آئس شیٹ کا پگھلاؤ تیزی سے بڑھے گا اور اس سے عالمی سمندروں کی سطح مزید اونچی ہوگی۔ گرین لینڈ کی برفیلی چادروں کا مجموعی رقبہ 50 ہزار مربع کلومیٹر ہے لیکن ان کی گہرائی معلوم کرنا اب بھی ممکن نہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کی ماڈلنگ اور نقشہ سازی نہیں کی گئی تھی۔
اب کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں، پال کرسٹوفرسن اور ان کے ساتھیوں نے گرین لینڈ کی برف کی جڑوں کا پگھلاؤ معلوم کرنے کا ایک طریقہ ڈھونڈ ہے۔ انھوں نے لیزر کے ذریعہ اس
‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues