جنت کا استحقاق
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۳۳
نظر میں آپ خود اسی برائی کے ذمہ دار قرار پائیں، جس کا ذمہ دار آپ دوسرے کو سمجھے ہوئے تھے۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ وَلَا يَرْمِيْهِ بِالْكُفْرِ إِلَّا اِرْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6045)۔ یعنی جب کوئی شخص کسی کے اوپر فسق کا الزام لگائے یا اس کے اوپر کفر کا الزام لگائے تو اس کا الزام خود اسی کی طرف لوٹ آئے گا اگر دوسرا شخص ویسا نہ ہو۔ بے بنیاد غلط فہمی بھی بلاشبہ ایک الزام کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ کسی کے بارے میں ایک ایسی غلط فہمی میں مبتلا ہونا ہے جو باعتبار واقعہ درست نہیں۔ ایسی حالت میں غلط فہمی یا بدگمانی سے بچنا خود اپنے فائدے کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔ وہ آدمی کا خود اپنا مسئلہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ فریق ثانی میں اگر وہ برائی نہ ہو تو خود بدگمانی کرنے والا اس کا مجرم قرار پائے گا۔
یہ حدیث رسول بے حد سنگین ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی غلط فہمی یا بدگمانی کے معاملہ میں آخری حد تک سنجیدہ ہو جائے۔ غلط فہمی اگر سادہ نوعیت کی ہو، مثلاً آپ کسی کے بارے میں یہ رائے قائم کریں کہ وہ جلد غصہ میں آ جاتا ہے تو اس میں اس کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں۔ لیکن اگر کسی کے بارے میں غلط فہمی کی بنا پر ایسی سنگین رائے قائم کر لی جائے جو اخلاقی یا شرعی جرم کی حیثیت رکھتی ہو تو ایسی صورت میں معاملہ بے حد سنگین ہو جائے گا۔ ایسی سنگین غلط فہمی گویا دو دھاری تلوار ہے، وہ اگر فریق ثانی کو نہ کاٹے تو خود آپ کی ہلاکت کا سبب بن جائے گی۔
ہر آدمی کو جاننا چاہیے کہ وہ جو کچھ رائے قائم کرتا ہے اپنی معلومات کے دائرہ میں کرتا ہے۔ اب چونکہ حقائق کا دائرہ کسی شخص کی ذاتی معلومات سے بہت زیادہ وسیع ہے، اس لیے ہر وقت یہ امکان ہے کہ اپنی معلومات کے دائرہ میں وہ ایک رائے کو صحیح سمجھ لے۔ حالانکہ وسیع تر حقائق کے اعتبار سے اس کی رائے صحیح نہ ہو۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ جب دوسرے کے بارے میں رائے قائم کرنا ہو تو خوش گمانی کے معاملہ میں وہ حد درجہ فیاض بن جائے اور بدگمانی کے معاملہ میں حد درجہ بخیل۔ یہی عقل کا تقاضا بھی ہے اور یہی خدا کے خوف کا تقاضا بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues