کائناتی عبادت
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۸
کوشش کے ساتھ خدا سے مدد مانگنا چاهیے۔ ۔ کیوں کہ انسان خدا کی مدد کے بغیر تنہا اپنے تزکیہ کا عمل ہر گز انجام نہیں دے سکتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسا کہ جانور بے عیب بچہ جنتا ہے۔ کیا تم اس میں کوئی جسمانی خرابی پاتے ہو۔ پھر ابو ہریرہ نے قرآن سے سورہ الروم کی آیت 30 پڑھی: یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو بنایا ہے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 1358، صحیح مسلم، حدیث نمبر 22)۔ تمام انسانوں کی فطرت (نیچر) ایک ہے۔ ہر آدمی اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ ماحول کے اندر نشو و نما پا تا ہے تو اس کی فطرت پر ماحول کا اثر غالب آ جاتا ہے۔ اگر آدمی اپنی ابتدائی فطرت کو زندہ رکھے تو کوئی برائی آدمی کو خدا کے مطلوب راستہ سے دور نہیں کر سکتی۔ اس حدیث رسول میں والدین سے مراد قریبی ماحول ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر مسٹر نیچر ہے، لیکن ماحول کے اثر سے وہ مسٹر کنڈیشنڈ (Mr. Conditioned) بن جاتا ہے۔ یہ کنڈیشننگ بلاشبہ ہر انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس بنا پر ہر انسان درست سوچ (right thinking) سے محروم رہتا ہے۔ وہ کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ جیتا ہے اور کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ ہی مر جاتا ہے۔ اپنی عدم واقفیت کی بنا پر اس کو کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔
انسان سے مطلوب ہے کہ وہ اپنے شعوری فیصلے کے تحت، اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے آپ کو دوبارہ انسان فطری (Mr. Nature) بنائے۔ جو آدمی ایسا نہ کر سکے، وہ سچائی کو دریافت کرنے میں ناکام ہو جائے گا۔ خواہ رسول کے زمانے کا انسان ہو یا رسول کے بعد کے زمانے کا انسان۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی اپنا بے لاگ محاسبہ (introspection) کر کے اپنی کنڈیشننگ کو دریافت کرے ۔ اور سیلف ہیمرنگ کے ذریعے اپنے آپ کو اس کنڈیشننگ سے آزاد کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues