Al-Risala · November 2023 · page 9

کائناتی عبادت

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۹

یہاں تک کہ وہ دھیرے دھیرے مکمل معنوں میں ایک ڈی کنڈیشنڈ انسان بن جائے۔ ڈی کنڈیشننگ کے عمل کو غالباً قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔

ابو موسیٰ الاشعرٰی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ نے ہم کو پانچ باتیں بتائیں۔ اللہ کبھی نہیں سوتا اور نہ اس کی یہ شان ہے کہ وہ سوئے۔ وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور وہی اس کو اٹھاتا ہے۔ اس کے یہاں تمام اعمال پیش کیے جاتے ہیں، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے۔ اس کا پردہ نور ہے۔ اگر وہ اپنا پردہ اٹھا دے تو اس کی ذات کی شعائيں حد نظر تک مخلوق کو جلا دیں۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 179) اس حدیث میں دو حقیقتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ خدا لامحدود (limitless) طاقتوں کا مالک ہے۔ اور دوسرے یہ کہ خدا ہر لمحہ انسان کے قول وعمل سے باخبر رہتا ہے۔ یہ دونوں باتیں اگر انسان کے ذہن میں تازہ رہیں تو وہ اس کی ہدایت کے لیے کافی ہو جائیں۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، اس کورات اور دن کی بخشش بھی کم نہیں کرتی ہے، پھر آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے غور کیا، جب سے آسمانوں اور زمین کو اللہ نے پیدا کیا ہے کس قدر خرچ کر رہا ہے، مگر جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے، اس میں کمی نہیں ہوئی، پھر فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں ترازو ہے کہ وہ اس کو جھکاتا ہے اور وہ اس کو اٹھاتا ہے۔ (متفق علیہ)۔ امام مسلم کی روایت میں ہے کہ اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ اور ابن نمیر (راوی) نے کہا کہ بھرا ہوا ہے، وہ خرچ کرتا اور دیتا ہے، دن میں بھی اور رات میں بھی، اور اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 4684؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 37)۔ اس حدیث میں خدا کی اتھاہ قدرت و ملکیت کو بیان کیا گیا ہے۔ ایمان کا آغاز خدا کی معرفت سے ہوتا ہے۔ یعنی تخلیقات میں غور وفکر کر کے خدا کو خالق ومالک کی حیثیت سے دریافت کرنا۔ جدید سائنسی انکشافات نے اس غور وفکر کا دائرہ لامحدود حد تک وسیع کر دیا ہے۔ انسان جب تدبر وتفکر کے ذریعہ اعلیٰ معرفت خداوندی کا ادراک کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ انسان عاجز مطلق (all-powerless) ہے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page