Al-Risala · November 2023 · page 10

کائناتی عبادت

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۰

اور خدا قادر مطلق (all-powerful)۔ خدا کی قدرت کی یہ لامحدوديت تقاضا کرتی ہے کہ انسان بلاشرط اس پر یقین کرے، کسی بھی حال میں اس کا اعتماد متزلزل نہ ہو۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 1384، صحیح مسلم، حدیث نمبر 26)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ سوال کا واضح اور قطعی جواب نہیں دیا۔ اس میں غالباً اشارہ ہے کہ اس طرح کے سوالات کا تعلق خدا سے ہے، نہ کہ انسان سے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس بارے میں توقف کیا جائے۔ اور حتمی انداز میں ان کو جنتی یا جہنمی نہ بتایا جائے۔ عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے سب سے پہلے جو چیز پیدا کی وہ قلم ہے۔ اس نے قلم سے کہا کہ لکھ۔ قلم نے کہا کہ میں کیا لکھوں۔ اللہ نے فرمایا کہ تقدیر کو لکھ، یعنی ہر وہ چیز جو واقع ہو چکی ہے اور جو (مستقبل میں) واقع ہونے والی ہے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2155)۔

اس حدیث میں تمثیل کی زبان میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا نے کائنات کو پیدا کرتے ہی اس کا ایک ابدی قانون مقرر کر دیا۔ اب کائنات اور انسانی تاریخ ابدتک اسی قانون پر چلے گی، اس میں کوئی تبدیلی ہونے والی نہیں۔

مسلم بن یسار تابعی کہتے ہیں کہ عمر بن الخطاب سے قرآن کی آیت (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ الخ) کے بارے میں پوچھا گیا۔ عمر نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے آدم کو پیدا کیا۔ پھر ان کی پشت پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرا۔ پھر ان کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ میں نے ان لوگوں کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور وہ اہل جنت والا عمل کریں گے۔ اللہ نے پھر

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page