کائناتی عبادت
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۱
اپنا هاتھ آدم کی پیٹھ پر پھیرا۔ اور کہا کہ میں نے ان کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور وہ اہلِ دوزخ والا عمل کریں گے۔ ایک آدمی نے کہا کہ اے خدا کے رسول پھر کس چیز میں عمل۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کسی بندہ کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس کو اہلِ جنت والے عمل میں لگا دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کی وفات اہلِ جنت کے اعمال میں سے کسی عمل پر ہوتی ہے پھر اس عمل کی بنیاد پر اس کو جنت میں داخل کر دیتا ہے۔ اور جب اللہ کسی بندے کو دوزخ کے لیے پیدا کر دیتا ہے تو اس کو اہلِ دوزخ والے عمل میں لگا دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کی وفات اہلِ دوزخ کے اعمال میں سے کسی عمل پر ہوتی ہے پھر اس عمل کی بنیاد پر اس کو دوزخ میں داخل کر دیتا ہے (موطا امام مالک، حدیث نمبر 2، سنن الترمذی، حدیث نمبر 3075، سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4703)۔
مکمل آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھ سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود ان کے اوپر۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی (7:172)۔ اس حدیث میں دراصل مشیتِ الہی (تقدیر) کی زبان میں قانونِ الہی کا ذکر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے مقرر کیے ہوئے راستے کی پیروی کرے گا وہ آخر کار جنت میں پہنچے گا اور جو شخص ان خدائی راستے سے انحراف کرے گا وہ جہنم کا مستحق قرار پائے گا۔ کوئی بھی چیز اس کو جہنم سے بچانے والی نہ ہوگی۔ اصل یہ ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں اپنی آزادی کو استعمال کرنے کا کامل اختیار اصل ہے۔ وہ جس طرح چاہے سوچے، وہ جیسا چاہے عمل کرے۔ خالق نے انسان کو پیغمبر کے ذریعے جو دین بھیجا، اس کی حیثیت رہنما (گائڈ) کی ہے۔ لیکن فیصلہ پھر بھی انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ اس گائڈ کا کام انسان کو صرف یہ بتانا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ یہ رہنما انسان پر کسی قسم کا کوئی جبر قائم نہیں کرتا۔ انسان کی زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جس کی بنا پر اس کو خلیفہ کہا گیا ہے (البقرۃ، 2:30)۔ خلیفہ کا لفظی مطلب ہے بعد کو آنے والا (successor)۔ لیکن مفہوم کے اعتبار سے اس کا مطلب ہے اپنے اختیارات کو آزادانہ طور پر استعمال کرنے والی مخلوق۔ اسی آزادی کے صحیح یا غلط استعمال پر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues