امت مسلمه
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۷
ہزاروں سال سے "علت کائنات" کمی تلاش میں سرگرداں تھا۔ حالاں کہ علت کائنات کا مسئلہ نہایت گہرے سوالات سے جڑا ہوا تھا اور سائنس دانوں کا طبیعی مشاہدہ کسی بھی درجہ میں اس قابل نہ تھا کہ اس کو اس نازک اور گہرے سوال کے جواب کے لیے استعمال کیا جائے۔ تاہم انھوں نے استعمال کیا۔ حتی کہ اس کو خالق کے انکار کا سب سے بڑا ثبوت سمجھ لیا۔ مگر بیسویں صدی کے آغاز میں خود سائنس نے ایسے حقائق دریافت کیے جس کے بعد الحاد کی یہ بنیاد ہمیشہ کے لیے منہدم ہو گئی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو یہ دو کتابیں "مذہب اور جدید چیلنج" اور "مذہب اور سائنس" مطبوعہ گڈ ورڈ بکس، دہلی)۔ یہ ہے مختصر طور پر وہ فکری پس منظر جس میں جدید تاریخ کا وہ واقعہ وجود میں آیا جس کو مذہب اور سائنس کا تصادم کہا جاتا ہے۔
امت مسلمه
سائنس نے جدید دور کے ہر پہلو پر اتنی شدت اور وسعت کے ساتھ اثر ڈالا کہ علم کے تمام شعبوں اور فکر کے تمام گوشوں پر اس کی چھاپ پڑ گئی جس قدیم روایتی ڈھانچہ میں لوگوں نے اسلام کو پایا تھا، وہ بالکل ٹوٹ پھوٹ چکا تھا اور نیا فکری ڈھانچہ جو سائنس کے زیر اثر بنا، اس کے تحت اسلامی افکار کی تشکیل نو نہ کی جاسکی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نسل کی نسل کنفیوزن اور انتشار ذہنی کا شکار ہو کر رہ گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس دور میں ایسے لوگ معدوم ہو گئے جو اسلام کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہوں۔ بلاشبہ ایسے لوگ تھے اور کروروں کی تعداد میں تھے۔ مگر انھوں نے اسلام کو روایتی سطح پر پایا تھا، شعور کی سطح پر نہیں پایا تھا۔ اس کی کا نتیجہ صرف یہ نہیں ہوا کہ لوگ ایمان کی اس اعلی فکری سطح کو نہ پہنچ سکے جہاں آدمی گرد و پیش کے تمام واقعات کو اس طرح اپنے شعور حق کا جزء بنا لیتا ہے کہ ہر طرف اس کو خدا کا جلوہ دکھائی دینے لگتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ بڑا اجتماعی نقصان یہ ہوا کہ اس دور میں مسلمانوں کے جو مذہبی رہنما اٹھے، وہ خود بھی چونکہ ایسے تھے جنھوں نے فکر حاضر میں اپنے دین کو نہیں پایا تھا، بلکہ ماضی کے روایتی ڈھانچہ میں پایا تھا، اس لیے وہ دور جدید کے مطابق اسلامی مہم کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ انتہائی اخلاص مگر غیر شعوری طور پر نادانی کے ساتھ وہ مسلمانوں کو ایسی راہوں میں دوڑاتے رہے جن کی ساری قیمت
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues