Al-Risala · November 2023 · page 18

امت مسلمه

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۸

ماضی کے نقشہ میں تھی، عہد حاضر کے نقشہ میں وہ غیر متعلق (irrelevant) ہو چکے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم ملت کی ناکامی میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔ ہر محاذ پر ان کو شکست ہوئی اور شکست نے بالآخر مسلم ملت کو مایوسی اور جھنجھلاہٹ اور بے حوصلگی کا شدید تر تحفہ دے کر زوال کے کنارے پہنچا دیا۔ شعوری سطح پر دین کو پانے کا مطلب وقت کے افکار کے مقابلے میں دین کو پانا ہے۔ مثلاً معرکہ بدر (625ء) کے اہل اسلام نے اللہ کے حکم " اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت" (8:60) کی تفسیر " تلوار " میں پائی تھی۔ مگر شامی کے معرکہ (1857ء) میں شامل ہونے والے مسلمان بھی اگر آیت کی تفسیر " تلوار " میں پائیں تو کہا جائے گا کہ انھوں نے قرآن کو عہد حاضر کی نسبت سے نہیں پایا۔ آج اس آیت کی تفسیر کو تلوار کی شکل میں پانا، قرآن کو گزرے ہوئے ماضی کے نقشہ میں پانا ہے۔ جب کہ اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو وقت کے نقشہ میں پایا جائے۔ خیالات کے اظہار کے لیے شعر و خطابت کی زبان استعمال کرنا، احیائے اسلام کی تحریکوں کا سیاسی رخ اختیار کرنا، وعظ خوانی اور فتوے کو اصلاح امت کے لیے کافی سمجھنا سب اسی کے مظاہر ہیں۔ یعنی ماضی کے طریق کار کو حال میں دہرانا۔

دور جدید میں ہمارے جو مصلحین اٹھے انھوں نے اگر فکر حاضر میں اپنے اسلامی شعور کو پایا ہو تا تو وہ جانتے کہ وہ کون سے افکار و عوامل ہیں جو آج فیصلہ کن بن گئے ہیں اور ان کے مقابلہ میں احیائے اسلام کی منصوبہ بندی کس طرح ہونی چاہیے۔ اس کے بجائے مسلم رہنماؤں نے جو کیا، وہ یہ تھا کہ ان کے پاس صرف روایتی عقیدہ کا سرمایہ تھا۔ بس اسی کو لیے ہوئے وہ وقت کے سمندر میں کو دپڑے، بدلے ہوئے زمانے میں اس قسم کا جوش ایمان انھیں کہیں نہیں پہنچا سکتا تھا اور نہ اس نے کہیں پہنچایا۔

انیسویں صدی میں یہ بات پوری طرح نمایاں ہو چکی تھی کہ مذہب کا روایتی ڈھانچہ اس جدید ڈھانچہ (framework) میں اپنی جگہ نہیں پا رہا ہے جو سائنس کے زیر اثر بنا ہے۔ اس وقت ضرورت تھی کہ گہرائی کے ساتھ موجودہ صورت حال کا جائزہ لے کر اس کے مطابق نیا تشریحی فریم ورک تیار کیا جائے جس سے اسلام عصر حاضر میں دوبارہ اپنی جگہ پا سکے۔ اگر بروقت یہ کام ہو جاتا تو سائنس یا دور جدید نہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page