امت مسلمه
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۹
صرف یہ کہ مذہب کے حریف نہ بنتے بلکہ اس کو تقویت دے کر اس کو نئی زندگی عطا کرنے والے بن جاتے۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔ عیسائیت نے سیاسی اقتدار سے محرومی کے بعد ماڈرنزم کی شکل میں سائنس سے سمجھوتہ کرلیا۔ اس کے بالمقابل مسلمان ایک محفوظ خدائی دین کے حامل تھے۔ چنانچہ وہ فکری طور پر اس پوزیشن میں تھے کہ جدید تاریخ کے اس اہم کردار کو ادا کر سکیں، جس طرح انھوں نے نویں صدی عیسوی میں بغداد اور قرطبہ میں وقت کی سائنس اور فلسفہ کے مقابلے میں اسی قسم کے کردار کو ادا کیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ وہ وقت تھا جب کہ مسلمان قومیں زوال کا شکار ہو چکی تھیں۔ ان کے اندر نہ حوصلہ تھا، نہ فکری بلندی۔ مزید یہ کہ جدید اقتصادیات میں اپنی محرومی کی وجہ سے وہ اس قابل نہ رہے تھے کہ اس قسم کے کسی موثر کام کی قیمت ادا کر سکیں۔ اپنی پس ماندگی کی وجہ سے مسلمان اس کا ثبوت بھی نہ دے سکے کہ وہ وقت کے اس مسئلہ کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں۔ کجا کہ ان سے یہ امید کی جائے کہ وہ گہرائی کے ساتھ اس کا جائزہ لیتے اور زندگی کے جدید نقشہ میں مذہب کو اس کا مقام عطا کرتے۔ کرنے کا کام موجودہ حالات نے ہمارے لیے جو مسائل پیدا کیے ہیں، وہ دو قسم کے ہیں— نظری اور عملی۔
پہلے جزء کے سلسلے میں اہم ترین کام یہ ہے کہ اسلام کے عقائد و احکام کو جدید استدلالی انداز میں مرتب کیا جائے تا کہ وہ لوگوں کو آج کی چیز معلوم ہونے لگیں۔ نہ یہ کہ پڑھنے والا یہ سمجھے کہ وہ اس دور کی چیز ہیں جب کہ انسان قبائلی دور میں جیتا تھا۔ جدید انداز سے مراد یہ ہے کہ اسلوب تحریر اور استدلال دونوں اعتبار سے وہ عصر حاضر کے اعلیٰ معیار کے مطابق ہو۔ موجودہ زمانے میں اسلوب تحریر مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ قدیم روایتی اسلوب میں خطیبانہ انداز غالب ہوتا تھا۔ اب سائنسی اور تجزیاتی انداز کو پسند کیا جاتا ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ عبارت کے درمیان اشعار نقل کر دینا۔ زورِ الفاظ کا مظاہرہ کرنا یا مسجع فقرے لکھنا، نفس مضمون کی قیمت میں اضافہ کرتا ہے۔ اب یہ ساری چیزیں معیوب قرار پا چکی ہیں۔ قدیم تصور ادب میں تیر و نشتر قسم کے جملے، فریقِ مخالف کے اوپر تیز تیز ریمارک، جذباتی قسم کی عبارتیں انتہائی
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues