Al-Risala · November 2023 · page 21

امت مسلمه

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۱

راہ عمل تجویز کی ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو ایک انقلاب پسند لیڈر عام طور پر اختیار کرتا ہے۔ اس کا حل موجودہ زمانے کی اسلامی جماعتوں نے یہ نکالا ہے کہ نظام حاضر سے ٹکرا جائیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ اجتماعی ایمان اگر ہمیں حاصل نہیں تو اس کے حصول کی خاطر موت تو ہمارے بس میں ہے۔ پھر کیوں نہ ہم "بے ایمان" ، زندگی کے مقابلے میں "با ایمان" موت کو ترجیح دیں۔ اس کے نتیجہ میں جو خطرناک ظاہر مسلم نوجوانوں کے درمیان پیدا ہوا تھا، وہ تھا جہاد، بمعنی قتال اور سوسائڈ بامبینگ۔

یہ دونوں عمل اپنی حقیقت کے اعتبار سے مکمل طور پر غیر اسلامی عمل تھے، نہ کہ اسلام کی کوئی خدمت ۔ یہ غلط فہمی اس لیے پیدا ہوئی کہ اس دور میں اٹھنے والے مصلحین امت اس نکتے کو نہ سمجھ سکے کہ مکہ میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کی دعوت کا حکم دیا گیا تو یہ نہیں کہا گیا کہ مکہ کی پارلیمنٹ (دارالندوہ) میں نمائندگی حاصل کرنے کا مطالبہ کرو، یا کعبہ کی تولیت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرو۔ بلکہ توحید اور مواساة بنی آدم سے متعلق سادہ تعلیمات بھیجی گئیں اور حکم ہوا کہ لوگوں کو ان سے باخبر کرو۔ اس سے آگے کی چیزیں، جن کے حصول کے لیے اجتماعی انقلاب ضروری ہے، ان کے بارے میں قرآن میں حکم دیا گیا کہ اس معاملے میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنے بجائے ان کو برداشت کرو، اور اس وقت کا انتظار کرو جب اللہ حالات میں ایسا تغیر فرمائے جب کہ بقیہ مسائل کے حل کی راہ نکل سکے (10:102)۔

اس معاملہ میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ ممکن دائرہ میں دین پر عمل کرتے ہوئے دعوتی جدوجہد شروع کر دو اور بقیہ تمام امور کو نصرت الہی کے خانہ میں ڈال دو۔ یہی مطلب ہے دعوت کے بعد یہ کہنے کا کہ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر (74:7)۔ یعنی، اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔ زمانہ حال کے تقاضوں سے باخبر ہو کر دین کی بنیادی تعلیمات سے لوگوں کو پر امن انداز میں آگاہ کرنا اور اس راہ میں جو مشکلات و مسائل پیش آئیں، ان پر صبر کرنا، یہی تمام انبیاء کا طریقہ رہا ہے اور یہی آج بھی ان لوگوں کا طریقہ ہونا چاہیے جو ناموافق ماحول میں اسلام کی تعلیم سے اللہ کے بندوں کو

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page