ڈائیلاگ اسلام میں
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۲
ڈائیلاگ اسلام میں
ڈائیلاگ یا مکالمہ دو شخصیتوں یا دو پارٹیوں کے درمیان بات چیت (conversation) کا نام ہے۔ ڈائیلاگ (dialogue) کا مقصد یہ ہے کہ کسی اختلافی مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جائے: A discussion between representatives of parties to a conflict that is aimed at finding a resolution. ڈائیلاگ دورِ جدید کا ظاہر ہ ہے ، قدیم بادشاہی دور میں آزادانہ ڈائیلاگ کا رواج نہ تھا۔ جب دنیا میں ڈیموکریسی آئی تو فطری طور پر لوگوں کے درمیان آزادانہ ڈائیلاگ ہونے لگا۔ یہ ڈائیلاگ سیاسی سطح پر بھی جاری ہوا، اور غیر سیاسی سطح پر بھی۔
ڈائیلاگ دراصل انسانی سماج کو حیوانی سطح سے اٹھا کر انسانی سطح میں لانے کا نام ہے۔ انسانوں کے درمیان اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ اختلاف کی باتوں پر لڑ جاتے تھے ۔ وہ اختلاف کو طے کرنے کا ایک ہی طریقہ جانتے تھے، اور وہ لڑائی تھی۔ لیکن ڈیموکریسی نے اس طریقے کو ختم کر دیا، اور انسان کو جنگل کلچر کے دور سے نکال کر امن کلچر کے دور میں پہنچایا۔ ڈائیلاگ یا پرامن مکالمے کا طریقہ عین اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام کی بنیاد دعوت کے اصول پر قائم ہے، اور دعوت پر امن گفت و شنید (discussion) کا دوسرا نام ہے۔ اسلام میں تشدد مکمل طور پر حرام عمل ہے (المائدہ، 33-5:32)۔ اس سے صرف ایک استثناء ہے، اور وہ دفاع ہے (الحج، 22:39)۔ یہ دفاع (defence) خارجی حملے کے وقت ہوتا ہے۔ اور دفاع کا یہ کام بھی صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت کر سکتی ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1841)۔ غیر حکومتی تنظیم دفاع یا انصاف کے نام پر متشددانہ لڑائی لڑنے کا حق نہیں رکھتی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں عرب میں اپنا مشن شروع کیا۔ یہ مشن کیا تھا۔ وہ مشن یہ تھا کہ آپ اپنی آئیڈیالوجی کو لے کر لوگوں میں جائیں اور لوگوں سے اس کے بارے میں بات چیت کریں۔ ان کے اعتراضات کو سنیں اور دلیل کے ذریعے اپنے نقطہ نظر پر انھیں مطمئن کرنے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues