ڈائیلاگ اسلام میں
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۵
نتیجہ خیز ہونے کا تعلق ، صرف کمرۂ ڈائلاگ کی بات چیت پر منحصر نہیں ہوتا ، بلکہ اس پر منحصر ہوتا ہے کہ کمرۂ ڈائلاگ کے باہر جو فضا بنائی گئی ہے وہ ڈائلاگ کے حق میں ہے یا اس کے خلاف ہے۔ ڈائلاگ کا ایک اور اصول وہ ہے جو سنتِ رسول سے ثابت ہوتا ہے، یہ اصول حدیبیہ کے معاہدے سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ پیغمبرِ اسلام اور قریش کے درمیان لمبی بات چیت کے بعد طے پایا تھا۔ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، یہ معاہدہ اس طرح ممکن ہوا کہ پیغمبرِ اسلام نے قریش کی کئی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا۔ پیغمبر کی اس سنت سے ڈائلاگ کا یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے نقطہ نظر کو دلیل کے ساتھ پیش کریں۔ لیکن اسی کے ساتھ دونوں اس بات کے لیے تیار رہیں کہ ڈائلاگ ہمیشہ لینے اور دینے (give and take) کے اصول کو اختیار کر کے کامیاب ہوتا ہے نہ کہ صرف لینے کے اصول پر اصرار کرنے سے۔ عملی معاملات میں اسلام آخری حد تک لچک کے اصول کو پسند کرتا ہے۔
اسلامی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صرف ڈائلاگ کے اصول نہیں بتائے گئے ہیں بلکہ ڈائلاگ کے اصول کا عملی تجربہ بھی بار بار کیا گیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
پیغمبرِ اسلام نے اپنے مشن کے مکی دور میں بار بار ڈائلاگ کے اصول پر عمل کیا۔ مثلاً ایک بار قریش نے اپنے سردار عقبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ بنا کر پیغمبرِ اسلام کے پاس بھیجا تا کہ باہمی اختلاف کے موضوع پر بات چیت کر کے صلح کا ماحول بنایا جائے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عقبہ نے نہایت غور کے ساتھ آپ کی باتیں سنیں اور قریش کے پاس جا کر انھیں اس سے آگاہ کیا۔ اسی طرح ایک بار آپ کے چچا ابو طالب کی دعوت پر آپ اور قریش کے نمائندے اکٹھا ہوئے اور اختلافی موضوعات پر پرامن انداز میں بات چیت ہوئی۔
اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر پیغمبرِ اسلام اور قریش کے درمیان ایک گفت و شنید ہوئی۔ اس کا سلسلہ تقریباً دو ہفتے تک جاری رہا۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان وہ معاہدہ طے پایا جس کو معاہدۂ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ بلاشبہ پرامن ڈائلاگ کی ایک کامیاب مثال ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues