ڈائیلاگ اسلام میں
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۶
اسی طرح پیغمبر اسلام کی موجودگی میں تین مذاہب_ اسلام، مسیحیت اور یہودیت کے نمائندوں کے درمیان ٹرائلاگ ہوا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 549)۔ یہ ٹرائلاگ (trialogue) مدینہ کی مسجد نبوی میں ہوا۔ عرب مصنّفین نے اس کو مؤتمر الأديان الثلاثة کا نام دیا ہے۔ یعنی تین مذہبوں کے درمیان ٹرائلاگ۔ غالباً یہ تاریخ کا پہلا ٹرائلاگ تھا جو مقدس عبادت خانے کے اندر ہوا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں پرامن گفت و شنید کو کتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
اسلام کی تاریخ میں اس طرح کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ یہ مثالیں اس معیاری زمانے سے تعلق رکھتی ہیں، جس کو عہد نبوت اور عہد صحابہ کہا جاتا ہے۔ اس لیے ڈائلاگ یا باہمی گفت و شنید کے اصول کو اسلام میں ایک مستند اصول کی حیثیت حاصل ہے۔
خلاصہ کلام
اسلام کا طریقہ پر امن ڈائلاگ کا طریقہ ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صلح کا طریقہ سب سے بہتر طریقہ ہے (4:128)۔ اسی طرح ایک اور آیت میں آیا ہے کہ اختلاف کے موقع پر باہمی گفت و شنید اور ثالثی (negotiation and mediation) کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے (4:35)۔ حدیث میں آیا ہے کہ دشمن سے مڈبھیڑ کی خواہش نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت مانگو (لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 7237۔ اسلام کا مقصد ربانی انقلاب لانا ہے۔ لوگوں کو خدا پرستانہ زندگی کی طرف بلانا ہے۔ ایک ایسا سماج بنانا ہے جہاں روحانی اور اخلاقی اور انسانی قدروں کا رواج ہو۔ اسلام ایک ایسے ماحول کا داعی ہے جہاں امن اور ٹالرنس اور محبت اور خیر خواہانہ تعلقات کا مزاج لوگوں کے اندر پایا جائے_ جہاں نزاعات کو تشدد کے بغیر حل کیا جائے۔ یہی اسلام کی مطلوب دنیا ہے۔ ایسی دنیا صرف پرامن ڈائلاگ کے ذریعے ہی قائم کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام عقیدے کے اعتبار سے توحید پر قائم ہے اور طریق کار کے اعتبار سے پرامن ڈائلاگ پر۔ یہی اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔ اس کے سوا جو طریقہ ہے اس کو اسلام کا طریقہ نہیں کہا جاسکتا (6 جون 2006)۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues