Al-Risala · November 2023 · page 27

ڈائیلاگ اسلام میں

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۷

ڈائری 1986

جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد صاحب نے 6 مارچ 1986ء کو ایک تقریر کی۔ لاہور کے جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذہبی مزاج کی حامل تمام سیاسی جماعتوں کو اتحاد اور اشتراک عمل کے ساتھ اسلام کے لیے کام کرنا چاہیے۔ میاں طفیل محمد صاحب نے اپنی اس تقریر میں مزید یہ بات کہی:

” آپ جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر کام کریں “ (میثاق، اپریل 1986ء)

یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ پہلی بات اگر دعوت اتحاد ہے تو دوسری بات دعوت انضمام (invitation of merger) ہے۔ پہلی بات کے مطابق لوگوں کو ایک مشترک نظریاتی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو جانا چاہیے۔ جب کہ دوسری بات کا مطلب یہ ہے کہ تمام لوگ اس تنظیم کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو جائیں جس کا نام جماعت اسلامی ہے۔

موجودہ زمانہ میں ہر مسلمان لیڈر اتحاد کا لفظ بولتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اتحاد کیا ہے اور وہ کس طرح قائم ہوتا ہے۔

” انضمام “ کی نوعیت کا اتحاد صرف اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ آپ تمام لوگوں کو صد فی صد اپنا ہم خیال بنا چکے ہوں ۔ مگر اتحاد کی یہ صورت اتنی نادر ہے کہ وہ تقریباً نا قابل حصول ہے۔ عام حالات میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اتنی ذہنی وسعت ہو کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہو سکیں ۔ اتحاد کی یہی صورت ہے جس کو انگریزی میں ایک جملہ میں اس طرح ادا کیا گیا ہے : we agree to differ میں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے۔

شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ (اپریل 1985ء) کے بعد مسلم قائدین نے اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page