30 مارچ 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۸
تقریر سے ہندوستان کے مسلمانوں میں کوفی جوش پیدا کر دیا۔ اس احتجاجی تحریک کے ایک بڑے قائد، جو ایک معروف عالم دین ہیں، کے الفاظ میں تحریک خلافت کے بعد دوسری بار ایسا ہوا ہے کہ مسلمانوں نے اتنے بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایک زلزلہ انگیز اور انقلاب انگیز مسئلہ تھا اور مسلمانوں کا حق تھا کہ وہ اس کے بارے میں بے چین ہو جائیں۔ مسلمانوں کے پرشور مظاہرہ کا ردعمل ہوا اور ملک کے انگریزی اور ہندی اخبارات میں کافی مضامین شائع ہوئے۔
اس سلسلے میں انگریزی اور ہندی اخبارات کے رویہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مذکورہ عالم دین نے کہا کہ برادران وطن نے احساس تناسب کھو دیا ہے۔ یہ کون سا کرائسس ہے جس کے لیے انگریزی اور ہندی اخبارات اپنے قیمتی کالم لگائے ہوئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اب کوئی دوسرا مسئلہ ہی نہیں۔ فسادات میں کتنی ہی عورتیں بے سہارا، بیوہ اور لاوارث ہو گئیں، مگر ان کے لیے ہمدردی کا کبھی ایک لفظ بھی شائع نہ ہوا! (نقیب: 24 مارچ 1986ء)
احساس تناسب کھونے کی جو شکایت مولانا موصوف نے ملکی پریس کے خلاف کی ہے وہی خود مزید اضافہ کے ساتھ مولانا موصوف اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ بھی ہے۔ انہوں نے شاہ بانو کے معاملے میں جو دھوم مچائی ہے، کیا وہی دھوم وہ دوسرے ملی اور دینی معاملات میں بھی مچاتے ہیں؟ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔ پھر جو لوگ خود احساس تناسب کھوئے ہوئے ہوں انہیں کیا حق ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں احساس تناسب کھونے کی شکایت کریں۔
30 مارچ 1986
مہاراشٹر کے سابق چیف منسٹر مسٹر عبدالرحمن انتولے نے ہماری تمام مطبوعات منگوائی ہیں اور اہتمام کے ساتھ آج کل ان کو پڑھ رہے ہیں۔ اس درمیان میں ان کے داماد مسٹر مشتاق انتولے دوبار بمبئی سے دہلی آئے۔ اور دونوں بار جناب عبدالرحمن انتولے صاحب کی تاکید پر مجھ سے آکر ملے۔ پہلی بار 18 فروری 1986 ء کو اور دوسری بار آج 30 مارچ 1986ء کو۔ پہلی بار جب وہ دہلی آئے تھے تو ان کے ساتھ ایک اور صاحب تھے جن کا نام انہوں نے مسٹر سالوی بتایا تھا۔ اس سے یہ واضح نہ تھا کہ وہ ہندو
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues