Al-Risala · November 2023 · page 29

31 مارچ 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۲۹

ہیں یا مسلمان۔ تاہم اپنے عام معمول کے مطابق میں نے ہندو اور مسلمان کی کوئی بات نہ کی بلکہ عام سچائی کی بات کی۔ مسٹر مشتاق انتولے نے بتایا کہ اس سے مسٹر سالوی بہت متاثر ہوئے۔ یہاں سے واپس جانے کے بعد وہ بمبئی میں برابر میرا تذکرہ کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بہت سی مذہبی شخصیتیں دیکھی ہیں، مگر اس قسم کی شخصیت میں نے پہلی بار دیکھی۔ مسٹر سالوی کو اس بات پر سخت تعجب تھا کہ میں نے ملاقات میں کسی قسم کی فرقہ وارانہ بات نہیں کی۔ ان کے نزدیک کوئی مہان روح ہی ایسا کر سکتی ہے کہ ہندو مسلم سے اوپر اٹھ کر سوچے اور اس سے اوپر اٹھ کر بات کرے ۔ میں نے مسٹر مشتاق انتولے سے کہا کہ میرا دل خدا کے فضل سے اس قسم کے بھید بھاؤ سے بالکل خالی ہے۔ میں ہندو اور مسلم کی اصطلاحوں میں نہیں سوچتا بلکہ حق اور ناحق کی اصطلاح میں سوچتا ہوں ۔ حق اور ناحق دو قوموں کے نام نہیں، بلکہ یہ دو الگ الگ اصول ہیں۔ میں نے کہا کہ میں اپنی پرائیویٹ مجلسوں میں یا گھر کے اندر بھی ہندوؤں کی برائی نہیں کرتا، جو کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام طریقہ بن چکا ہے۔

ہندو اور مسلم کی اصطلاحوں میں سوچنا قومی اصطلاحوں میں سوچنا ہے۔ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ حق اور ناحق کی اصطلاح میں سوچا جائے۔

31 مارچ 1986

ریاست عمان (Oman) کی ایک تیرہ سالہ شادی شدہ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ لندن گئی تو وہاں اس کے خلاف ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ اسلامی شریعت کے مطابق اگرچہ ایسا نکاح غلط نہیں، مگر مغرب کے لوگ کم سنی کے نکاح کو پسماندگی کی علامت اور ایک جاہلانہ رواج سمجھتے ہیں۔ چنانچہ لڑکی کا انگلینڈ میں رہنا مشکل ہو گیا۔ یہاں تک کہ حکومت عمان کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ انگلینڈ کی سماجی نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس لڑکی کو واپس بلا لیا جائے ۔

ہندی اخبار نو بھارت ٹائمز نے اس خبر پر اپنے ادارتی کالم میں تبصرہ کیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ انگلینڈ کے لوگ کم سنی کے نکاح کو برا سمجھتے ہیں، مگر کم سنی کے جنسی تعلقات کو وہ اس سے زیادہ بڑے پیمانے پر اپنے یہاں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس نے لکھا ہے کہ پچھلے کئی مہینوں سے ایک

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page