Al-Risala · November 2023 · page 30

31 مارچ 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۳۰

مقدمہ انگلینڈ کی عدالت میں اس سوال پر چل رہا ہے کہ کیا ڈاکٹروں کو یہ اختیار ہے کہ وہ والدین کی اجازت کے بغیر ان نابالغ لڑکیوں کو مانع حمل کی گولیاں دیں۔ ایک بے حد پریشان ماں نے عدالت کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے یہ فریاد کی تھی کہ اپنے بچوں کے چال چلن کی نگرانی کرنا کم از کم اس وقت تک میری ذمہ داری ہے جب تک وہ نابالغ ہیں۔ لیکن اس غم زدہ ماں کی فریاد کو رد کرتے ہوئے عدالت نے فیصلہ دیا کہ 13 سال کی نابالغ لڑکی ڈاکٹر سے مانع حمل کی گولی لے کر اپنے نوجوان آشنا کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کر سکتی ہے۔

نو بھارت ٹائمز کے ایڈیٹر نے مذکورہ دونوں واقعات کی تفصیل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اب یہ بتائیے کہ کم سنی کی شادی زیادہ بہتر ہے یا کم سنی کی آوارگی؟

جدید مغربی تہذیب کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ آزادی‘‘ کے نام پر لامحدود جنسی تعلق کی اجازت دیتی ہے، مگر قیدِ نکاح کے ساتھ محدود ازدواجی تعلق بھی اس کو گوارا نہیں۔ 1 اپریل 1986 یہ 15 ستمبر 1975 کا واقعہ ہے۔ روزنامہ الجمعیۃ میں ایک صاحب بطور کلرک کام کرتے تھے، جن کا نام عزیز احمد تھا۔ وہ نگینہ (ضلع بجنور، یوپی) کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے 15 ستمبر کو مجھ سے کہا کہ میری گھڑی گم ہو گئی ہے۔ اچانک میری زبان سے نکلا ان شاء اللہ، آپ کی گھڑی مل جائے گی‘۔ وہ میری بات سن کر ہنس دیے۔ انہوں نے کہا مجھے تو یہ بات بالکل ناممکن نظر آتی ہے۔ دو دن بعد انہوں نے بتایا کہ محلہ کا ایک لڑکا ان کی گھڑی لا کر اسلم صاحب کو دے گیا اور کہا کہ یہ مجھے پڑی ہوئی ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ لڑکا کبھی کبھی اسلم صاحب کے گھر پر آتا ہے۔ عزیز صاحب اپنی گھڑی کو کمرہ میں رکھ کر نہانے کے لیے چلے گئے تھے۔ واپس آئے تو گھڑی نہیں تھی۔ وہ لڑکا اتفاق سے عین اسی وقت گھر میں آیا اور عزیز صاحب نے اس کو نکلتے ہوئے دیکھا۔ جب عزیز صاحب کو معلوم ہوا کہ گھڑی گم ہے تو انہوں نے مذکورہ لڑکے سے گھڑی کی بابت دریافت کیا تو اس نے کہا کہ میں گھڑی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ دو دن بعد اس لڑکے نے گھڑی لا کر دے دی۔ میں نے جو بات کہی وہ کسی علم غیب کی بنا پر نہیں کہی تھی۔ بلکہ صرف عزیز صاحب کی پریشانی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page